اورنگی ٹاؤن، ماں بہن کی عزت لوٹنے پر کچھ نہ بولو، ورنہ۔۔۔

فائرنگ کی آواز نے رات کو تھکے ہارے سوئے ہوئے اہلِ علاقہ کو نیند سے بیدار کر دیا ۔۔۔ تاڑ ۔۔۔تاڑ ۔۔۔۔تاڑ ۔۔ آوازیں مزید تیز ہوگئیں .. بے چینی سے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے لوگ صبح ہونے کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے.. صبح ہوئی تو آہستہ آہستہ لوگ گھروں سے نکل کے ایک دوسرے سے رات کو ہونے والی فائرنگ کے مطابق پوچھنے لگے… آخرکار دکان پر موجود ٹی وی پر خبر چلی کہ رات پولیس کے دو گروپوں میں آپس میں جھڑپ ہوئ تھی..

اس کے بعد لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے.. اگلی صبح خبر آئی کہ اگلے بلاک میں ڈکیتی ہوئی ہے.. جس معاشرے میں 8-6 لوگوں کا قتل ایک عام بات ہو وہاں چوری ڈکیتی کی واردات پر کون کان دھرتا ہے، زندگی کی گاڑی کو بہ دقت کھینچتے لوگ روز علاقے میں چوری ڈکیتی کی خبریں سنتے اور رات کو سونے سے پہلے خدا سے حفاظت کی دعا کر کے سو جاتے کہ اگلے دن پھر سورج کے ساتھ انکا سفر شروع ہونا ہے ۔

ایک ہفتے مسلسل ڈکیتیوں کی خبر کے بعد ایک خبر آئی کہ اگلے بلاک میں ڈکیتی کے دوران ایک لڑکے کو گولی مار دی گئ، سب لوگ افسوس کرتے ہوئے کہنے لگے کہ سات آٹھ ڈاکو اسلحہ لے کر آئے تھے.. کیا ضرورت تھی بھلا مزاحمت کرنے کی۔

دودن بعد مسجد سے اعلان ہوا کہ وہ لڑکا چل بسا،چوتھے دن دوسرے بلاک میں پھر ڈکیتی کا واقعہ ہوا اب کے لوگ سُن ہوگئے،خبر کچھ اتنی وحشتناک تھی کہ لوگوں کے منہ سے آہِ سرد بھی نہ نکل سکی۔

خبر یہ تھی کہ رات کو ڈاکو ایک گھر میں داخل ہوئے ماں اور بیٹی سو رہے تھے جب ان غریبوں کے پاس سے مال برآمد نہ ہوسکا تو انکی عزتیں لوٹ کر انہیں گولی مار کے چلے گئے.اب لوگ عجیب سی وحشت میں گھِر گئے تھے کہ آخر کریں تو کیا کریں۔

پڑھیں: اورنگی ٹاؤن مظاہرے سے گرفتار افراد کو جیل بھیج دیا گیا

لڑکوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہر گلی میں 4،6 افراد چھتوں پر پہرہ دیں گے کیونکہ پیسے دینا تو کوئی بڑی بات نہیں تھی، روز ہی ہی سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے پولیس والے غریب عوام سے پیسے لیتی ہی ہے لیکن بات اب کے عزت پر آگئ تھی طے ہوا کہ جیسے ہی کوئی چور کو دیکھے تو شور مچا دیں گے.

بے بس لوگ آخر اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے تھے؟  ڈکیتیاں ہوتے ہوئے ایک ماہ گزر چکا تھا بلا ناغہ ڈکیت آتے اور سب کچھ لُوٹ کے لے جاتے، ایک رات جیسے ہی ڈکیت ایک گھر میں کودے چھتوں پر بیٹھے لڑکوں نے شور مچا دیا. سب لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے.

اس صورتحال میں ڈکیتوں نے بھاگنے میں ہی عافیت جانی. لوگ اُن کو پکڑنے کے لیے پیچھے دوڑے تو دیکھا پولیس کی گاڑی علاقے میں کھڑی ہے. لڑکے ڈکیت کے پیچھے بھاگے تو پولیس نے ڈکیتوں کے تعاقب میں بھاگتے لڑکوں کو دھر لیا. لڑکوں نے صورتحال بتائی اتنی دیر میں ڈاکو فرار ہوگیے۔

لڑکے واپس محلے میں آرہے تھے کہ اچانک ایک خاتون کی آواز نے چونکا دیا…” ایک ڈاکو گلی میں چھپا ہے”.. لڑکوں نے گلی کے دونوں اطراف سے گلی بند کی اور سرچنگ شروع کی.. آخرکار ڈکیت پکڑا گیا لوگوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور جو ہاتھ میں آیا اس سے مارا  اور  ڈکیت عوام کے ہاتھوں مارا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ان کے سروں پر گولیاں مارو

 اگلے دن پھر ڈکیت آئے اس بارعوام چوکنّا تھی جیسے ہی آئے عوام جاگ گئے رات کو شبِ قدر کا سا سماں ہوگیا جیسے ہی چور بھاگا لوگ اس کے پیچھے بھاگے اس بار پھر پولیس کی گاڑی آگئی اور ڈکیت پھر فرار ہوگیے۔

علاقہ مکینوں نے اگلے دن چوک پر جمع ہوکر احتجاج کیا اور بے بسی کی تصویر بنے لوگ پلے کارڈز لے کر احتجاج کرنے لگے، چونکہ تمام اہل علاقہ ہی ڈکیتیوں سے عاجز تھے بالآخر 600 سے زائد لوگوں نے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔

جب پولیس نے اتنی بڑی تعداد دیکھی لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی پولیس نے اسٹریٹ فائر کرنا شروع کیے یہاں تک کہ ایک پولیس آفیسر بولا سر پر گولی مارو.. پانچ افراد گولیوں سے زخمی ہوئے اور اُن میں سے 65 سالہ بزرگ اصغر امام اگلے دن دم توڑ گیا۔

ستم ظریفی یہ کہ پولیس نے اپنی غلطی ماننے کے بجائے اصغر امام کو دہشت گرد قرار دیا اور 15 روز پرانی ایف آئی میں اُن کا نام ڈال کر اشتہاری قرار دیا جبکہ سب جانتے ہیں کہ وہ صبح 7 بجے گھر سے نوکری کے لیے نکلتے تھے اور شام 6 بجے گھر میں داخل ہوتے ہیں، ظلم کی انتہاء یہ بھی ہوئی کہ 250 نوجوانوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی اور کئی طرح کے کیس ان پر بنائے گئے اور جائے وقوعہ سے گرفتار 7 افراد کو  بری طرح انہیں زدوکوب کرکے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے احکامات پر انہیں جیل بھیج دیا گیا۔

احتجاج کے دوسرے دن غریب شخص جسے گولی لگی تھی چل بسا اس کے جنازے میں ایک خاتون نے بتایا کہ انکی طرف ڈکیتی ہوئی تو ایک لڑکی جسکی دس دن بعد شادی تھی اس ڈکیتی کے بعد اس لڑکی نے پھندہ ڈال کر خود کشی کر لی اور میں یہ سن کر سوچنے لگی کہ اس علاقے میں زندہ رہنا ہے تو اپنے گھروں میں ڈکیتی کرواو، ماں بہنوں کی عزت کو خاموشی سے پامال ہوتا دیکھو، اگر آواز اٹھاؤ گے تو گولی کھاؤ گے۔

اسے بھی پڑھیں: مراد علی شاہ صاحب آپ اورنگی کے بھی وزیراعلیٰ ہیں

پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق (شہید) ہونے والے بے گناہ شخص کا معصوم بھانجا بھی ان  افراد میں شامل تھا جن کو پولیس نے حراست میں لے کر جھوٹے مقدمات میں پھنسایا، مگر جب جنازے میں شرکت کے لیے اسے چھوڑا گیا تو چار لوگ اسے گود میں اٹھا کر لائے کیونکہ تشدد کی وجہ سے وہ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوپا رہا تھا۔

اب اورنگی کے مکینوں کے دماغوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں کیونکہ وہ بہت تلخ ہیں اور اہل علاقہ کی مایوس نگاہیں سوال کرتی نظر آتی ہیں کہ کیا ڈکیتیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے دھشت گرد تھے؟

کیا وہ ریاست کے خلاف کوئ کام کر رہے تھے؟

کیا وہ کسی کی تکفیر کر رہے تھے؟

اورنگی میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد عوام کو معلوم ہوا کہ اس ملک میں دہشت گرد آسانی سے بم دھماکے کیسے کر لیتے ہیں، یہاں قاتل پکڑے کیوں نہیں جاتے، یہاں محنت کش بن موت کیوں مارا جاتا ہے۔ ..

آج معلوم ہوا کہ سات مسلح ڈاکوؤں کے آگے وہ نہتّا لڑکا کس بنا پر مزاحمت کر کے اپنی جان دے بیٹھا،جن 250 نوجوانوں پر  جھوٹی ایف-آئی-آر درج کی گئی وہ گورنمنٹ جابز کے لئے معزول ہوگئے ،اب وہ کیا کریں گے؟ کیا جیل جاکر واپس آنے والے معصوم لوگ نارمل زندگی گزار سکیں گے؟

ان سوالات کے جواب دینا ریاست کا کام ہے مگر شاید جمہوریت کو علم ہی نہیں کہ اورنگی ٹاؤن کراچی کا حصہ ہے اور یہاں کے عوام کو کیا مسائل ہیں، کیونکہ یہ علاقہ مہاجر اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے اور یہاں کے لوگ ایم کیو ایم کو الطاف حسین کے نام کی وجہ سے ووٹ دیتے آرئے تھے۔


نوٹ : یہ تحریر اورنگی ٹاؤن 10 نمبر کی رہائشی خاتون نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر لکھی ہے۔ ادارہ اُن سے کیے جانے والے وعدے کی پاسداری کو یقینی بنارہا ہے۔


اپنا تبصرہ بھیجیں: