نوبزادہ لیاقت علی خان نے جرنل ایوب کی سفارش کیوں کی؟‌ معلوماتی تحریر

تحریر: کامران رضوی

دباو کی سیاست پاکستان میں اب نہیں زمانہ ہوا ایک عام بات ہے لیڈر لڑتے ہیں جدوجہد کرتے ہیں پھر اقتدار بھی مل جاتا ہے مگر دباو اور بڑھ جاتا ہے اپکے نظریات یا اپکا نظریہ اقتدار کے بغیر ہوتا ہے اپکی ساری جدوجہد اقتدار سے پہلے کی ہوتی ہے اقتدار کا پہلا دن اپکے نظریہ کا اخری دن ہوتا ہے اس ملک اپنے پاکستان میں عام انتخابات جسمیں ایک عام ادمی نے ووٹ دیا وہ 1971 کا الیکشن تھا  اس سے پہلے کے پاکستان میں نہ ووٹ نہ الیکشن 24 گھنٹے میں دو دو وزیراعظم بھی دیکھے گٸۓ غلام محمد اور اسکندر مرزا بھی اقتدار پر رہے اور جرنل ایوب بھی جرنل ایوب کبھی کرنل ایوب بھی رہا اور جرنل ایوب تک پہنچنے کے لیے ایوب کی سازشوں پر کبھی لکھونگا اس وقت تو ایک چھوٹا سا قصہ یاد اگیا وہ حاضر ہے جرنل گریسی پاکستان کا وہ جرنل جو انگریز دے کر گٸۓ تھے تاکہ فوج ڈسیپلین ہو تاریخ بتاتی ہے کے جب جرنل گریسی نے اپنی چھڑی اور اسٹارز شفٹ کیے تو اسے جرنل ایوب پسند نہیں تھا مگر نوبزادہ لیاقت علی خان کی سفارش تھی تو جرنل گریسی خاموش رہا سوال یہ ہے کے نوبزادہ لیاقت علی خان نے جرنل ایوب کی سفارش کیوں کی اسکا جواب بڑا سادا سا ہے کہ بیگم رانا لیاقت علی کی اصل سفارش جرنل ایوب تھا یہ نواب صاحب کی دوسری بیوی تھیں اور شادی سے پہلے مس رانا ایک نرس تھیں اب نواب صاحب کی دوسری اور لاڈلی بیگم اور انکی سفارش تو ایوب کو تو جرنل بننا ہی تھا بس افسوس اس بات کا ہے کہ نواب صاحب سال بھر بھی ذندہ نہ رہۓ بلکہ ایک گولی کا نشانہ بنے پنڈی کے ایک جلسے میں گولی چلانے والا ANP سندھ کا صدر شاھی سٸد کا والد تھا لکھنے والوں نے شاھی سٸد کو شاھی سید لکھ دیا مرضی ہے بھاٸ قلم اپکا تاریخ اپکی لیکن سچ چھپتا نہیں جیسے ہم نے رانا کو ہمیشہ راعنا لکھا پھر بعد میں پتہ چلا کے یہ تو ایک کاسٹ ہے رانا ہم تو سہیل راعنا والا ہی بیگم رانا لیاقت کو راعنا سمجھتے رہۓ خیر چھوڑیں اتنی براٸیاں بھی نہیں لکھنیں چاہیے بیگم رانا لیاقت کا اپوا نرسنگ انسٹیٹیوٹ تو اپ سب کو یاد ہی ہوگا۔

بات ہورہی تھی 1971 کے الیکشن کی شیخ مجیب کا کیا نعرہ تھا کیا منشور تھا ہمیں اب اس سے کوٸ غرض نہیں ہاں بھٹو کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان جو تاریخ کے پرانے پنوں پر بھی درج ہے مگر بھٹو سمجھتے تھے کہ عوام کو بے وقوف بنا لینگے اور پرانا نعرہ 71 میں نیا پاکستان کر کے لگا دیا بھٹو کی خواہش ہوسکتی ہے بھٹو اس نعرے پر لوگوں کو روٹی کپڑا مکان کر کے بھی دے سکتا تھا مگر وہ اقتدار میں اگیا تو کونسا نعرہ کونسا منشور بس اک دباو تھا جو براہ راست تھا اور کچھ نہیں ایوب یحیحیٰ اور پھر ضیا نہ نعرہ نہ منشور اور اقتدار بھی مرجانا یا پھٹ جانا اللہ کے ہاتھ میں ہے انسان پیدا ہوتا ہے تو موت ہی اسکی حفاظت کرتی ہے تو موت سے کیا گھبرانا بے نظیر بھٹو ایک بہترین سیاسی اور نظریاتی خاتون تھیں اب اسے اتفاق کہہ لیں کے دو جماعتیں پی پی اور ایم کیو ایم ایک صوبہ سندھ سے ہی تھیں ایک سیاسی جماعت اور ایک تحریک اور یہ دونوں تحریک اور جماعت 88 کے الیکشن میں حصہ لینے کے بعد اقتدار تک پہنچیں اور پھر سیاسی جماعت اور ایک تحریک اپنے انجام کو پہنچی نظریہ بہت پیچھے رہ گیا بس ایک دباو تھا جو پی پی پر بھی تھا اور ایم کیو ایم پر بھی دباو کی سیاست سے اپوزیشن ہمیشہ باہر ہوتی ہے بلکل 88 کے نواز شریف کی طرح نواز شریف کا کوٸ قابل زکر نعرہ کبھی سامنے ایا نہیں اور ایا بھی تو اب جب وہ سیاست میں اپنی بیٹی کو اگے بڑھا رہۓ ہیں انکا نعرہ تین بار وزیراعظم رہنے کے بعد سامنے ایا کہ ووٹ کو عزت دو تین بار وزیراعظم نوازشریف اور دو بار وزیراعظم بے نظیر رہیں ویسے تین بار ہی کہہ لیں کیونکہ پی پی تو تین بار اقتدار میں رہی اور ان چھے بار بھی دباو اپنی جگہ برقرار رہا جب ملک میں نہ تو جمہوریت ہے نہ اسلامی نظام بغیر کسی نظریہ کے دوڑے جا رہۓ ہیں سب بہت ہی افسوسناک بات یہ بھی ہے کے پاکستان کا کوٸ ایک نعرہ نہیں کوٸ ایک نعرہ جو 47 سے اب تک ہمارا ہو ہم دنیا کے سامنے فخریہ کہہ سکیں کے ہم پاکستانی ہیں اور ہمارا نعرہ یہ ہے لیکن نعرہ نہیں اب دباو ہے اور دو ابھرتے ہوے پیداٸیشی لیڈر اس دباو کا اظہار کھل کر کر رہۓ ہیں اس میں مریم نواز بہت اگے کی سمت میں ہیں اور اچھا انداز ہے اب لوگ بی بی بےنظیر کو ان سے الگ رکھیں مریم نواز کا اپنا نداز ہے جبکہ بی بی کا نداز اپنا تھا جس دباو کا اظہار مریم نواز کر رہی ہیں اسکا ادھا بھی ابھی بلاول نہیں کر پایا ہے۔

ماضی کے اوراق:‌ جنرل ایوب خان کی سیاسی معاملات میں‌ مداخلت پر قائد اعظم نے کیا کہا تھا؟

سیاست پاکستان میں اچھے اور خوبصورت انداز سے شروع ہوجاۓ تو یہ ایک بہت اچھی خبر ہوگی اور پھر اس پر عملدرامد کا انداز بھی بہتر سے بہترین ہوجاۓ تو پاکستان ترقی کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھ دیگا 25 جولاٸ کا یوم سیاہ اس انداز سے اپوزیشن مناۓ کے ایک تو مذہبی رنگ اسمیں نمایاں نہ ہو اور سیاسی رنگ میں امن بہت زیادہ اجاگر ہو رکشہ ٹیکسی بس ٹرک یا ٹاٸر جلانا پرانی بات ہوٸ اب اس یوم سیاہ کو فٹ پاتھوں پہ بیٹھ کے مناو بازوں پہ کالی پٹی بندھی ہو کچھ تو ہم اگے بڑھیں اپوزیشن میں ہوکر ہی صحیح ایم کیو ایم نے پریس کلب پر مظاہرہ کیا اب ایم کیو ایم کو بھی پریس کلب کو خیراباد کہنا ہوگا مظاہرہ شہر کی سڑکوں سے ملحقہ فٹ ہاتھوں پر کریں گورنر ہاوس اور چیف منسٹر ہاوس کے اطراف میں خاموش کھڑے رہ کر احتجاج کریں خاموش مظاہرہ کریں ہم ساری سیاسی جماعتیں پر امن ہیں لیکن مظاہرے کے لیے سڑکوں پر اتے ہیں اور سڑکوں پر ہمارے انے کا مطلب ٹریفک میں خلل ڈالنا ہوجاتا ہے 2019 میں ہیں اور انداز 1857 کا نیا پاکستان بنانے والیے اپنے انجام کی طرف تیزی سے گامزن ہیں عوام اور شہری سندھ کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کے ایم کیو ایم کے یونین کونسل یا مٸیر بغیر اختیارات کے بیٹھے ہیں تو دو مرکز کے وزیر کے اختیارات کیا ہونگے جب نہ تو لاپتہ کارکنان اب تک واپس اۓ اور نہ دافاتر کھلے جب قوم اپکے ساتھ شانہ بشانہ ہے تو پھر ایم کیو ایم ہو یا پیلپز پارٹی یا مسلم لیگ ن مظاہروں اور جلسوں میں تبدیلی اب ضروری ہے ہم کل بچے تھے جواں ہوے پھر بوڑھے بھی ہوگے کچھ نہ بدلا سیاست میں اپ نٸ نسل کے نماٸیندے ہو ڈاکٹر خالد مقبول بلاول بھٹو یا مریم نواز زمہ داری اپ پر زیادہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: