قتل کا الزام، ایم کیو ایم کارکنان 13 سال بعد بے گناہ قرار

کراچی: سینٹرل جیل میں قائم ہونے والی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 7 نے 13 سال بعد کیس کا فیصلہ سنایا جس میں ایم کیو ایم کے کارکنان کو بری قرار دیا گیا۔

پولیس نے سعید (بھرم) اور رشید (ڈاکٹر) کو 2006 میں مہاجر قومی موومنٹ کے 2 کارکنان کے قتل میں ملوث قرار دیا تھا اور دونوں کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ سعید اور رشید نے ایم کیو ایم حقیقی کے 2 کارکنان بدر اقبال اور سرفراز کو فائرنگ کر کے قتل کیا، حیران کن طور پر بری کیے جانے والے ملزمان کو پولیس کے گواہان بطور عینی شاہد شناخت کرچکے ہیں۔

ملزمان کے وکیل عابد زمان ایڈوکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے میرے موکلوں پر من گھڑت الزامات عائد کیے اور انہیں بلا جواز قتل کے الزام میں پھنسایا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ایم کیو ایم کے کارکنان کو جماعت اسلامی کے یوسی چیئرمین ڈاکٹر پرویز محمود کیس میں بھی بری قرار دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: