لیاقت علی خان شہادت والے روز کیا اعلان کرنے والے تھے؟

راولپنڈی میں 16اکتوبر1951 کو جلسے کے دوران برادران اسلام کے الفاظ ادا کرتے ہی جلسے میں دو گولیاں چلنے کی آواز آئی، ایک لیاقت علی خان کے سینے میں پیوست ہوئی تو دوسری کے بارے میں کہا جاتا ہے اُس سے قاتل کو مارا گیا۔

تفتیش کا یہ عالم کہ 1951 سے اب تک اس قتل کیس کا معمہ حل نہ ہوسکا، جس کی وجہ سے کئی ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جن کے اٹھانے پر اٹھ جانے کا ڈر رہتا ہے، آج خاموشی کے ساتھ لیاقت علی خان کی 71 واں شہادت کا دن منایا جارہا ہے، اصولی طور پر تو اسے قومی دن کے طور پر منانا چاہیے مگر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔

بیگم رعنا لیاقت علی خان ،جن کا انٹرویو حال ہی میں ایک مقامی اخبا ر میں چھپ چکا ہے، شہیدِمِلّت کو اس جلسہ عام کے سامنے نئے انتخابات کا اعلان کرنا تھا (اگر اس روز یہ اعلان ہوجاتا اور انتخابات ہوجاتے تو تاریخ بدل جاتی ۔اور نوکر شاہی کے سیاسی عزائم خاک میں مل جاتے ۔کیوں کہ انتخابات سےنظامِ جمہوریت میں از سرِ نو توانائی پیدا ہو جاتی)۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: