بغاوت کا الزام، سعودی فرمانروا کے بھائی اور بھیتجے سمیت تین شہزادے گرفتار

ریاض: سعودی عرب نے بغاوت کے الزام میں شاہ سلمان کے بھائی اور بھتیجے سمیت 3 شہزادوں کو حراست میں لے لیا، شاہی محافظوں نے سعودی شاہ سلمان کے بھائی شہزاد احمد بن عبدالعزیز السعود اور ان کے بھیتجے شہزادہ محمد بن نائف کو بغاوت کے الزام میں گھروں سے حراست میں لیا۔

شاہی فرمان جاری ہونے کے بعد گزشتہ روز شہزادوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس بات کا انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی اشاعت میں کیا ہے۔ذرائع کے حوالے سے وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا کہ حراست میں لیے گئے افراد میں 2 سینئر شہزادے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جمعے کے روز سعودی شاہ سلمان کے بھائی شہزاد احمد بن عبدالعزیز السعود اور ان کے بھیتجے شہزادہ محمد بن نائف کو ان کے گھروں سے شاہی محافظوں نے حراست میں لے لیا۔ان شہزادوں پر بغاوت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔نیو یارک ٹائمز کے مطاب شہزادہ نائف کے چھوٹے بھائی شہزادہ نواف بن نائف کو بھی حراست میں لیا گیا۔ سعودی حکام نے فی الحال اس بارے میں کوئی موقف جاری نہیں کیا۔

واضح رہے کہ سعودی سعودی شہزادہ الولید بن طلال کوموجودہ سیاسی قیادت نے 2017ء کے آخر میں نظر بند کر دیا تھا۔ بعد میں انہیں سعودی حکومت سے ایک معاہدے کے بعد رہائی ملی ہے،اس بات کا اظہار کنگڈم ہولڈنگز کے مالک شہزادہ الولید بن طلال نے اپنے رہائی کے بعد پہلے انٹرویو میں کیا تھا۔وہ تین ماہ تک نظر بند رہے۔انھوں نے ایک مغربی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سعودی حکومت سے اپنی رہائی کے لئے ایک معاہدہ پر دستخط کئے ہیں تاہم انھوں نے معاہدے کی تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ حساس اور خفیہ ہے جو میرے اور سعودی حکومت کے درمیان ایک سمجھوتہ ہے اور میں اس سمجھوتے کا احترام کروں گا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی اب بھی سعودی حکومت کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں شہزادہ طلال نے کہا کہ ان کے گلوبل انوسٹمنٹ فرم میں اب بھی 95 فیصد حصص داری برقرار ہے۔یاد رہے کہ شہزادہ ولید کو جنوری کے آخر میں رہائی نصیب ہوئی تھی۔شہزادہ طلال نے کہا کہ وہ سعودی عرب میں منصوبوں کے لئے شاہی دولت فنڈ سے مشترکہ سرمایہ کاری کے لئے رابطے میں ہیں اور ان کی کنگڈم ہولڈینگ اپنی13 ارب ڈالر کے اثاثے سعودی عرب منتقل کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: