الطاف حسین ملک دشمن نہیں، محسن ہیں، عشرت العباد

دبئی: سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا ہے کہ الطاف حسین کو آج بھی اپنا محسن سمجھتا ہوں کیونکہ انہی کی وجہ سے گورنر کا منصب ملا، درمیان کے کچھ لوگوں نے غلط باتوں کو مجھ سے منصوب کیا اور انہیں الطاف حسین تک پہنچایا۔

دنیا نیوز کے پروگرام ایک دن دنیا کے ساتھ میں میزبان سہیل وڑائچ کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق گورنر سندھ نے کہا کہ جب کراچی آپریشن شروع ہوا تو طے کیا گیا کہ جرائم میں ملوث افراد کو نہیں چھوڑا جائے گا مگر کچھ بااثر لوگوں نے حکمت عملی تبدیل کی اور ملزمان کو ایک جماعت میں شامل کروایا۔

انہوں نے کہا کہ جرائم میں ملوث لڑکوں کی گرفتاری پر کبھی لندن قیادت نے شور نہیں مچایا، جب الطاف بھائی کو غلط باتیں پہنچائی جاتی تھیں تو وہ ردعمل دیتے تاہم جب مجھ سے رابطہ ہوتا تھا تو انہیں تمام حقائق بیان کرتا تھا، عشرت العباد نے کہا کہ الطاف بھائی نے گھنٹوں گھنٹوں کال پر بات کی ایک بار تو انہوں نے 4 گھنٹے سے زیادہ وقت کی کال کر غصہ کیا۔

عشرت العباد نے کہا کہ الطاف حسین کی بات سننے کے بعد اُن سے اجازت لے کر کراچی آپریشن کے حقائق بتاتا تھا جس پر اکثر وہ مطمئن ہوجاتے، درمیان کے لوگوں نے جب زیادہ فائدہ اٹھانا شروع کیا تو میں نے الطاف بھائی کو کہا کہ گرفتار کارکنان کا مقدمہ عدالت میں جانے دیں اور فیصلہ اُسی کے اوپر چھوڑ دیں۔

پڑھیں: کراچی آپریشن کی جانبداری، عشرت العباد نے سب اگل دیا

اُن کا کہنا تھا کہ پی ایس پی کراچی میں بری طرح ناکام ہوچکی تاہم فاروق ستار کے ساتھ اراکین اسمبلی اس وجہ سے موجود ہیں کہ انہیں یہ بتایا گیا ہے کہ فاروق ستار لندن سے رابطے میں ہیں جس دن اس بات کی حقیقت کھلے گی تو تمام اراکین ساتھ چھوڑ دیں گے۔

بانی ایم کیو ایم کے را سے تعلقات پر عشرت العباد نے کہا میں نے کبھی الطاف بھائی کو ملک کی مخالفت کرتے نہیں دیکھا، انہوں نے ملک سے کرپشن کے خاتمے کی بات کی تو وہ پاکستان کی بھلائی کے لیے ہی تھی، میرا نہیں خیال کہ وہ ملک دشمن ہیں۔

لندن سے کارکنان کو ہدایت ملنے والے سوال پر عشرت العباد نے کہا ہوسکتا ہے کچھ لوگ اپنے فائدوں کے لیے لڑکوں کا استعمال کرتے ہوں مگر جتنے عرصے میں ایم کیو ایم سے وابستہ رہا اُس وقت تک ایسی کوئی بات نہیں تھی اور نہ ہی الطاف بھائی نے کبھی تشدد کا درس دیا۔

نوٹ : یہ طویل انٹرویو دنیا نیوز پر 19 مارچ کو نشر کیا گیا۔

انٹرویو دیکھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں: