بلال فاروقی کی گرفتاری اور اندراج مقدمے کے خلاف نوجوان صحافتی تنظیم کا احتجاج

جو سینئر صحافی نہ کرسکے وہ نوجوانوں نے کر دکھایا، صحافت کے ہابند سلاسل ہونے پر نوجوان صحافی میدان میں

کراچی: شہر قائد سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافیوں نے اپنے ساتھی بلال فاروقی کی گرفتاری اور اُن کے خلاف درج ہونے والے مقدمہ پر پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔
ترجمان کے مطابق ینگ جرنلسٹ آف پاکستان کراچی میں نوجوان صحافیوں کی وہ تنظیم ہے جس نے ہمیشہ صحافیوں ہر ہونے والے ریاستی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور آج ایک بار پھر یہ تنظیم ایک نڈر اور بے باک صحافی بلال فاروقی اور ان کے خانوادے کے ساتھ کھڑی ہے جب کہ ان کو ریاستی اداروں نے قید کیا اور انکے خلاف ایک من گھڑت مقدمہ درج کردیا۔
اعلامیے میں تنظیم کا کہنا تھا کہ بلال فاروقی عرصہ دراز سے صحافت سے وابستہ ہیں اور کسی تعارف کے محتاج نہیں، انہوں نے ہمیشہ صحافتی اقدار کا پاس رکھتے ہوئے مظلوموں اور محکوموں کا ساتھ دیا اور ہر قسم کے مظالم کے خلاف بنا خوف و خطر آواز بلند کی، یہی وجہ ہے کہ ان کو خاموش کرنے کے لئیے ریاست نے ایک جھوٹی ایف آئی آر کٹوا کر انہیں پابندِ سلاسل کیا مگر وزیر اعلیٰ کی خاص دخل اندازی کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا۔
ترجمان وائی جے پی کا کہنا تھا کہ ’بلال کو انکے گھر سے اغوا کرکے تھانے لے جانا اور پھر مشکوک لوگوں کا گھر آکر انکا اور انکی اہلیہ کا موبائل فون چھین کر لے جانا ان واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کئی سالوں سے صحافیوں کو ساتھ درپیش آئے ہیں۔ کبھی احمد نورانی پر حملہ، تو کبھی طحہٰ صدیقی پر۔ کبھی مطیع اللہ جان کو اغوا کرلینا تو کبھی شہازیب جیلانی کے خلاف من گھڑت ایف آئی کٹوا کر رسوا کرنا۔ یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں‘۔
بلال فاروقی پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ فرقہ واریت پھیلا رہے تھے ہمارے لیے حیرانی سے کم نہیں کیونکہ یہ بلال ہی تھے جنہوں نے اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گرد جماعتوں کی ہمیشہ نشاندہی کی اور حکومت سے ان کے خلاف ایکشن کرنے کی التجا بھی کی۔ ایک ایسےانسان دوست شخص پر اس قسم کا قبیح الزام لگانا ریاست کے دیوالیہ پن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
نوجوان صحافیوں کی تنظیم نے وفاقی ، صوبائی حکومتوں سمیت ریاستی اداروں اور مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلال فاروقی کے خلاف درج ہونے والے مقدمے کو سی کلاس کر کے اسے ختم کریں اور شکایت درج کروانے والے مدعی سے عدالت اور ریاستی ادارے مظموم عزائم کی بابت سوال کریں۔
ینگ جرنلست آف پاکستان نے ملک بھر کی صحافتی تنظیموں کو ایک بار پھر متحد ہوکر آزادی صحافت کے لیے جدوجہد کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ صحافتی تنظیموں کے متحدہ ہونے سے ہی معاشرہ ترقی پسند ہوسکتا ہے۔
مظاہرین نے سینئر صحافیوں اور دیگر صحافتی تنظیموں کے عہدیداران سے درخواست کی کہ وہ صحافت پر لگائے جانے والے قد غن کے خلاف باہر نکلیں اور ملک گیر تحریک کا اعلان کریں تاکہ نوجوان صحافی جو ایمانداری سے اپنا کام کررہے ہیں وہ بنا خوف و خطر اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: