سانحہ حیدرآباد، : منظم نسل کشی کے بارے میں کبھی میڈیا پر سننے کو نہیں ملے گا، تحریر شازیہ خان

سانحہ حیدرآباد، : منظم نسل کشی کے بارے میں کبھی میڈیا پر سننے کو نہیں ملے گا، تحریر شازیہ خان

30 ستمبر 1988 کی المناک شام کو حیدرآباد کے باسی تو کبھی فراموش ہی نہیں کرسکتے مگر بحیثیت مہاجر اپنی ہم قومیت کی نسل کشی کو اہل کراچی میں کبھی فراموش نہیں کر سکتے، قادر مگسی اپنے جمع کردہ سینکڑوں دہشتگردوں کے ہمراہ حیدرآباد کے مختلف علاقوں کے , بازاروں میں، بس اسٹاپ پر خودکار جدید اسلحے سے فائرنگ کر کہ سینکڑوں بچوں، خواتین و نوجوانوں کو شہید کیا۔

سرکاری سرپرستی میں ہونے والی اس دہشت گردی میں پکا قلعہ اور پٹھان کوٹ کے علاقوں پر تو راکٹ تک فائر کیے گئے جسکے نتیجے میں تقریباً تین سو سے زائد افراد شہید کر دیے گئے، کئی گھنٹوں تک جاری اس خونریزی پر ریاست کے ادارے بھنگ پی کر سوتے رہے، اور آج تیس سے اوپر دہائی کے بعد تک آپ کو کسی چینل پر اس منظم نسل کشی کے بارے میں کچھ سننے اور دیکھنے کو نہیں ملے گا۔

جبکہ یہی سو کالڈ غیرت مند اہل وطن کراچی والوں بارہ مئی سمیت بلدیہ ٹاؤن والی فیکٹری تک کا حساب مانگ رہے ہوتے ہیں، مگر ان دو کوڑی کی عقل رکھنے والو کو کراچی و حیدرآباد سمیت سندھ کے دوسرے مہاجر علاقوں پر ہونے ظلم نہ نظر آتا ہے اور نہ ہی انکو کراچی اور حیدرآباد پر ایوب دور سے آج تک بیتے جانے والے سانحات کی الف ب کے بارے میں کچھ علم ہوگا۔

سانحہ حیدر آباد: 250 افراد کو قتل کرنے کا الزام، ملزمان باعزت بری

افسوس ہوتا ہے کیا مہاجر کا خون اتنا ارزاں تھا جو قادر مگسی سمیت سینکڑوں لوگو کو با عزت بری کر دیا گیا، آخر پاکستان کی عدلیہ کو مہاجروں کا خون بہتا کبھی دکھائی کیوں نہیں دیا ہر بار اس کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو ہی کہہ کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں، اصل میں ایم کیو ایم کے بننے سے سندھ کی جاگیردارنہ سوچ رکھنے والی پارٹی کو شدید نقصان پہنچا جسکا بدلہ اس نے وقتاً فوقتاً کراچی و حیدرآباد سمیت سندھ کے شہری علاقوں کے مہاجروں سے لیا، تیس ستمبر کی خونی شام کو سول ہسپتال حیدرآباد سمیت شہر کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتال زخمیوں اور لاشوں سے پر ہوچکے تھے، سرکاری سرپرستی میں سو سے زائد افراد نے قادر مگسی کی سربراہی، خون کی ندیاں بہا دیں۔

سانحہ حیدرآباد، متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر

آج اس دہشت گرد کو اسکے ساتھیوں سمیت اس دنیا کی عدالت رہا کر چکی ہے مگر شاید یہ بے غیرت، بے ضمیر بھول گیا ہے کہ مہاجروں پر ظلم کرنے والا ہر ظالم اپنے برے انجام کو ہی پہنچا ہے چاہے اسمیں بھٹو ہو، بھٹو کی بیٹی ہو یا نصیراللہ بابر ان سب کی موت اس بات کی ضامن ہے کہ بےشک کمزور کی داد رسی کرنے والی اسکو انصاف دینے والی اوپر والی ذات ابھی انکے ساتھ ہے ورنہ تو اس ملک میں رہنے والے لوگ ہوں، جج ہوں، علماء ہوں، صحافی ہوں ان سبکو تو قطعی انصاف کرنا آتا ہی نہیں، بےشک اللہ بہتر منصف ہے۔


قلم کار کے الفاظ ذاتی ہیں، جن سے ادارے کی پالیسی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: