کرونا کی بگڑتی صورت حال، شراب خانے، شادی ہالز کھولنے اور مزارات بند کرنے کے عجیب و غریب فیصلہ

اولیائے کرام ؒ کے مزارات ہی کرونا کے پھیلاؤ کا سبب ہیں؟

شراب خانے، شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز، اور پارکس کھل سکتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے جلسے ہوسکتے ہیں تو مزارات کی بندش کیوں ضروری ہے۔

کراچی(نمائندہ خصوصی)کرونا کا ہدف مزارات اولیائے کرام ؒ ہی کیوں؟ پاکستان میں کروناکی دوسری لہر کے اثرات کے آ تے ہی حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ سینماہال تھیٹر اور مزارات کو فوری بند کر دیا جائے پہلی بات تو یہ ہےکہ پاکستا ن کی اکثریت کا تعلق اولیائے کرام  سے محبت کرنے والے طبقے سے ہے۔

عقدیت مندوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزارات کو سینما ہالز اور تھیٹرز کے ساتھ  بند کیا جارہا ہے حالانکہ سینما ہالز اور تھیٹر بے ہودگی اور مزارات مقدس مقامات ہیں صد افسوس کہ شراب خانے پارکس ۔اور شاپنگ مالز کے کھلے رہنے اور مزارات کو بند کرنے کی بات کی جارہی ہے کراچی میں سید عبداللہ شاہ غازی ؒ کے مزار سے یومیہ 10ہزار سے زائد افراد کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے کیا۔

حکومت کے پاس ایک بھی ایسا ادارہ ہے کہ جو اتنی بڑی تعداد میں بھوکوں کو کھانا فراہم کر سکے ارباب اختیار مزارات کو بند کرنے کی بجائے ایس او پی عمل کرا کر انہیں کھلا رکھ سکتی ہے اگر کرونا کے باوجود شراب خانے، شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز، اور پارکس کھل سکتے ہیں تو مزارات بھی کھل سکتے ہیں۔

عقیدت مندوں کےجذبات سےنہ کھیلا جائےایس او پی پرعمل کرایاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: