معاشی قتل عام اور جبری گمشدگیاں، صحافیوں‌ کا گورنر ہاؤس کا گھیراؤ، عمران اسماعیل کے کان پر جوں‌ تک نہ رینگی

معاشی قتل عام اور جبری گمشدگیاں، صحافیوں‌ کا گورنر ہاؤس کا گھیراؤ، عمران اسماعیل کے کان پر جوں‌ تک نہ رینگی

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی کال پر کل پاکستان کے تمام ہی بڑے شہروں میں صحافیوں کے حقوق اور اُن کے معاشی قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے میں شرکا نے ایوان کے باہر احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ میڈیا کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرے جبکہ کراچی یونین آف جرنلسٹ نے کراچی پریس کلب کے باہر مختصر مظاہرہ کیا جس کے بعد شرکاء نے ریلی کی صورت میں گورنر ہاؤس کی طرف مارچ کیا۔

فہیم صدیقی و دیگر کی قیادت میں شرکاء گورنر ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے کئی گھنٹے تک ڈیرے ڈالے اورمعاشی قتل عام و جبری گمشدگیوں جیسے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔کے یو جے کے عہدیداران نے گورنر کو یادداشت بھی جمع کرائی۔

مظاہرے میں عمران علی سید سمیت دیگر جبری طور پر گمشدہ ہونے والے یا جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنے والے صحافیوں کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے، شرکا نے آزادی اظہار رائے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کام کرنے سے نہ روکا جائے کیونکہ وہ خبر کو خبر کی ہی طرح پیش کرتے ہیں۔

شرکا نے نجی اور سرکاری میڈیا ہاؤسز میں کارکنان کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ معاشی قتل عام کے سلسلے کو فی الفور بند کیا جائے۔ مظاہروں میں ڈاکٹرز، مزدور تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکا نے چینل 24 کی بندش پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔

کے یو جے کے صدر فہیم صدیقی نے انکشاف کیا کہ گورنر سندھ نے صحافیوں کے مظاہرے کے باوجود اُن سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ’کیا ہی اچھا ہوتا کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل اپنے دروازے پر آنے والے صحافیوں سے باہر آکر ملاقات کرتے اور ان کے مسائل سنتے لیکن ان کا رویہ بھی ماضی کے حکمرانواں جیسا ہی ہے جو قابلِ افسوس ہے‘۔

احتجاجی دھرنے سے کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی، جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی، پاکستان بار کونسل کے رکن یاسین آزاد، پی ایم اے پاکستان کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد، پائلر کے رہنما سید کرامت علی، پیپلز لیبر بیورو کے صدر حبیب جنیدی، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل ناصر منصور، معروف مزدور رہنما لیاقت ساہی، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی رہنما زہرہ خان، کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران، ایپنک کے مرکزی سیکریٹری جنرل عبیداللہ، جنگ ایمپلائز یونین سی بی اے کے جنرل سیکریٹری اور ایپنک کے سیکریٹری جنرل شکیل یامین کانگا، دی نیوز ایمپلائز یونین سی بی اے کے جنرل سیکریٹری دارا ظفر، جاوید پریس ایمپلائز یونین کے جنرل سیکریٹری رانا یوسف، روزنامہ ڈان کی ہیرالڈ ورکرز یونین سی بی اے کے جنرل سیکریٹری رشاد محمود، قومی اخبار ایمپلائز یونین سی بی اے کے قائمقام صدر راو عمران اشفاق اور جنرل سیکریٹری عرفان ساگر، 72 روز سے بندش کا سامنا کرنے والے نیوز چینل 24 کے بیورو چیف آصف جعفری، نوائے وقت ورکرز ایکشن کمیٹی کے رہنما الطاف مجاہد، ایسوسی ایشن آف کیمرہ مین جرنلسٹس کے صدر محمد کاشف،پی ٹی وی ورکرز ایکشن کمیٹی کے رہنما محمود انور خان، ریڈیو پاکستان ورکرز ایکشن کمیٹی کی رہنما سیما رضا، کرائم رپورٹر ایسوسی ایشن کے صدر سمیر قریشی، کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر جاوید سلطان جدون کے ایم سی سجن یونین کے چیئرمین سید ذوالفقار شاہ اسٹیل مل کی پیپلز ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری سید حمیداللہ ودیگر نے خطاب کیا احتجاجی دھرنے کے اختتام گورنر ہاوس کے نمائندے کو کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے مطالبات پر مبنی یادداشت پیش کی گئی۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: