عملیت پسندی شہرقائد میں ندارد ۔۔۔۔ تجزیہ:سیدمحبوب احمدچشتی

عملیت پسندی شہرقائد میں ندارد ۔۔۔۔ تجزیہ:سیدمحبوب احمدچشتی

شہرقائد میں سیاسی تبدیلی پرانے چہروں کے ساتھ واپس آرہی ہے خوفزدہ سیاست کو ایک موقعہ دیکر کراچی کی قسمت جگانے کی کوششیں عروج پر پہنچتی نظرآرہی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما حیدر عباس رضوی اور عادل صدیقی طویل عرصے تک بیرونِ ملک رہنے کے بعد پاکستان واپس آگئے وطن واپسی کی اصل وجوہات اور سیاسی اثرات کچھ دنوں میں متوقع تھیں لیکن تاحال گرما گرم پریس کانفرنس کے لیئے مناسب موسم کا انتظار کیا جارہا ہے کون کون آرہا ہے اور کس کے آنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے اسکے لیئے دسمبر کا وقت اہم قرار دیا جارہا ہے تیز سردیوں میں گرم پریس کانفرنس کا مزہ الگ ہی ہوگا لیکن یہ دکھ اپنی جگہ رہے گا اتنے بڑی تعداد میں شہرقائد میں اسٹیک ہولڈر ز کے ہونے کا اہلیان کراچی کو کوئی فائدہ نہیں حاصل نہیں ہورہا ہے گراس روٹ لیول پر عوام اور بلدیاتی ملازمین ،پنشریزکے مسائل جوں کہ توں ہیں مفاد پرستی کی اعلیٰ ترین مثالیں درد دل کا سبب بن رہی ہے زبانی جمع خرچ ہجوم لگانے اور کرسیاں گننے تعداد پر ایک دوسرے کا مذاق اڑانے کو سیاست کا نام دیا جارہا ہے حادثات کے نتیجے میں رونما ہونے والے قائدین اور انکے حقیت پسند کارکناں وہمدردوں کو اس صورتحال میں جس ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے میں پہلے بھی یہ بات لکھ کچھ ہوں کہ پہلے شہرقائد کی وہ جماعتیں جو ایم کیوایم کی مختلف شاخیں قرار دی جاسکتی ہیں اپنے کارکناں ،ہمدروں کی احساس محرومی دور کریں پھر پورے کراچی حیدرآباد وغیرہ کی فکرکریں بلدیاتی اداروں میں ملازمین ،پنشریز  حالت زار کا جائزہ لیں اور اہم تبدیلیوں کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اس حقیت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ شہرقائد کو کسی تبدیلی کی نہیں اہم نظرثانی کی ضرورت ہے حیدرعباس رضوی کی آمد سیاسی وسماجی حلقوں کے مطابق رہنما ایم کیوایم پاکستان حیدر عباس رضوی کی والدہ کچھ عرصے سے علیل ہیں جن سے ملنے کیلئے وہ وطن واپس لوٹے ہیں واضع رہے کہ حیدرعباس رضوی 2018 ء میں بھی وطن واپسی کے چند گھنٹوں بعدہی رخصت ہوگئے تھے حیدرعباس رضوی کی وطن واپسی سیاسی اعتبارکے حوالے سے کیا رنگ لیکر آئی گی اسکا اندازہ چنددنوں میں ہوجائیگا موجودہ صورتحال میں جب ایم کیوایم پاکستان منقسم قومی موومنٹ میں تبدیل ہوچکی ہے شہرقائد میں غیر متاثر کن سیاسی ویژن کے ساتھ ہرسیاسی جماعت اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن سیاسی تربیت ہونے کے باوجود پرانا نصاب نظرانداز کرنے اور بھول جانے کیوجہ سے فی الحال آزمائش ہی آزمائش نظرآرہی ہے عملیت پسندی سے نظریں چرانے کو سیاسی عافیت سمجھا جارہا ہے جوکہ مستقبل میں ایم کیوایم پاکستان اور اہلیان کراچی کے لیئے فکرمندی کا باعث بن سکتے ہیں شہرقائد میں موجود ایم کیوایم پاکستان حیدرعباس رضوی کی اس واپسی سے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں یہ تو حیدر عباس رضوی کے ابتدائی کلمات ادا کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوجائینگے ایم کیوایم پاکستان ،ڈاکٹرفاروق ستار اور سیدمصطفی کمال سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مفاہمت نہ ہونے سے شہرقائد کے مسائل کے ساتھ اہلیان کراچی کو شدید سیاسی وذہنی اذیت سے دوچار ہونا پڑرہاہے اندرونی وبیرونی مسائل کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے سب کی احساس محرومی دور کرنی ہوگی گھرکے گلستان کو اس وقت آبیاری کی شدیدضرورت ہے عملیت پسندی کو نظرانداز کرنے والی قومیں کھبی تاریخ رقم نہیں کرسکتی ہیں وائس آف کراچی کے رہنما واسع جلیل سمیت بابرغوری ،عشرت العباد سمیت اہم سیاسی شخصیت کی آمد متوقع ہے جو فی الحال کراچی کے مسائل کو کسی منطقی انجام تک پہونچانے کی خواہشات رکھتے ہیں لیکن یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ابتک تو کسی کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی یہ حضرات جو کہ وسیع تجربہ رکھتے ہیں شہر قائد میں سیاسی خلا پرکرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ؟ کیوں اب یہ اپنی الگ الگ چھتریوں کو سرپرتانے آرہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں: