’ بانی کی ہدایت پر خالد مقبول صدیقی بھارت گئے اور پاکستان کا پاسپورٹ پھاڑا‘ : مصطفیٰ کمال کے تہلکہ خیز انکشافات

‘‘ بانی کی ہدایت پر خالد مقبول صدیقی بھارت گئے اور پاکستان کا پاسپورٹ پھاڑا’’

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے آج پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے حوالے تہلکہ خیز انکشافات کیے اور مطالبہ کیا کہ متحدہ قومی موؤمنٹ پر پابندی عائد کی جائے۔

پریس کانفرنس میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے ایم کیو ایم کے را سے تعلقات کے حوالے سے جو بات ساڑھے چار سال قبل کہی تھی وہ درست ثابت ہوئی، اللہ نے ہمیں ایک بار پھر سرخرو کیا، ایم کیو ایم پاکستان کے پاس جھنڈا، انتخابی نشان سب بانی ایم کیو ایم کا دیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’کراچی کی سڑک پر جب کوئی شہری ترانگا دیکھتا ہے تو اُس کے ذہن میں عامر خان یا خالد مقبول صدیقی کی شکل یاد نہیں آتی بلکہ وہ ایم کیو ایم نام سُن کر یا جھنڈا دیکھ کر لوگوں کو الطاف حسین کا چہرہ یاد آتا ہے، آج وہی لیٹر ہیڈ جس پر پاکستان کے لئے زہر لکھا جاتا ہے، پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں مہم چلائی جاتی ہے اسی کو کراچی میں چلایا جا رہا ہے، فوج اور پاکستان کے خلاف اسی جھنڈے کو اٹھا کر یو این، امریکہ، یورپ میں پاکستان کو گالیاں دی گئیں، وہی جھنڈا ریاست کی موجودگی میں کراچی کی سڑکوں پر لہرایا گیا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’بائیس اگست کے بعد ایم کیو ایم ختم ہوگئی تھی مگر ریاست نے اسے نظریہ ضرورت کے تحت دوبارہ کھڑا کیا، ایم کیو ایم کو چلانے والا کوئی اور نہیں بلکہ حکومت اور ریاست ہے، حکومت خود چاہتی ہے کہ لوگ بانی ایم کیو ایم کو نہ بھولیں کیونکہ انہوں نے 2018 کے انتخابات میں انہوں نے تحریک انصاف کو خود ووٹ دیے‘۔

مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا کہ سن 2000 میں خالد مقبول صدیقی بانی ایم کیو ایم کی ہدایت پر بھارت گئے اور وہاں پر ملاقات کی، بھارتی خفیہ ایجنسی را نے خالد مقبول صدیقی کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ جاری کیا جس کے بعد وہ امریکا گئے اور پاکستان کا ویزہ پھاڑ کر پھینک دیا، جہاں انہیں گرفتار کیا گیا تو وہ ضمانت پر رہا ہوئے، خالد مقبول صدیقی نے 13 سال تک را کا سلیپر سیل چلایا اور پاکستان کے خلاف بات بھی کی، جس کے بعد وہ پاکستان واپس پہنچے۔

پی ایس پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’آج  را سلیپر سیل کے گرفتار ہونے والے ملزمان خود انکشاف کررہے ہیں کہ انہیں خالد مقبول صدیقی بھارت لے کر گئے، یہ وہی خالد مقبول صدیقی ہے جو ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں، جن کے پاس ہر چیز بانی کی ہے اور وہ بانی کی ایم کیو ایم کو ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے چلا رہے ہیں‘۔

مصطفیٰ کمال نے مطالبہ کیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور ثبوت فراہم کرنے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان پر فی الفور پابندی عائد ہونی چاہیے، انہیں کسی قسم کی کوئی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہونا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ’مہاجروں نے باغ جناح بھر کر ثابت کر دیا کہ مہاجر آج کس کے ساتھ ہیں، ایم کیو ایم کہانی ختم ہو گئی ہے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: