بریکنگ نیوز:‌ خواجہ سعد رفیق نے مسلم لیگ ن سے راہیں‌ جدا کرلیں

بریکنگ نیوز:‌ خواجہ سعد رفیق نے مسلم لیگ ن سے راہیں‌ جدا کرلیں

لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما اور نوازشریف کے دیرینہ ساتھی خواجہ سعد رفیق نے بیانات میں تضاد کے بعد اپنی پارٹی سے دوری اختیار کرلی۔

ڈیلی پاکستان نے بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خبر اپنی ویب سائٹ پر پبلش کی جس میں بتایا گیا ہے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے نوازشریف نے خود ہی ووٹ کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد اب وہ اپنی بات سے مکر گئے۔

مسلم لیگ کے قائد کا اپنی بات سے مکرنے پر جہاں دیگر رہنما اور کارکنان ہق دک ہیں وہیں لیگی رہنماؤں نے پارٹی سے دوری یا کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔ اب خواجہ سعد رفیق نے خود کو پارٹی سے جدا کیا جبکہ فوج مخالف بیانیے پر دیگر سینئر رہنما بھی جلد مسلم لیگ ن جلد علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کریں گے۔

اس سے قبل معروف کالم نگار سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ خواجہ سعد رفیق، خرم دستگیر، خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی جارحانہ بیانیے کی حمایت میں نہیں ہیں جس کا انہوں نے پارٹی میں برملا اظہار بھی کیا اور نوازشریف کو مذاکرات شروع کرنے کا مشورہ دیا۔

مسلم لیگ ن کے اعلیٰ عہدیدار اور ماضی میں اہم پوزیشن پ رکام کرنے والے رہنما نے عالمی ادارے کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’نوازشریف کا اپنی بات سے مکرنا پارٹی رہنماؤں کے لیے اچمبے کی بات ہے، اگر ہم آج مدتِ ملازمت میں توسیع کی مخالفت کریں گے تو مؤرخ ہمارے بارے میں کیا لکھے گا، نوازشریف کو یہ سوچنا چاہیے‘۔

یہاں یہ بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے مسلم لیگ ن کے ایک اور دھڑے بننے کی پیش گوئی متعدد بار کی ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ مسلم لیگ ن میں سے ش نکل جائے گی، دسمبر اور جنوری کا مہینہ اس معاملے میں بہت اہم ہے۔

گوجرانوالہ اور دیگر جلسوں میں فوج کے خلاف بیانیہ اور اعلیٰ افسران کا نام لینے پر پہلے ہی مسلم لیگ ن کے رہنما پارٹی کو خیر باد کہہ چکے ہیں، بلوچستان کے صوبائی صدر عبدالقادر بلوچ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداران نے پارٹی سے پہلے ہی علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

خواجہ سعد رفیق کو اس بات کا بھی شکوہ ہے کہ اُن کی اور بھائی کی گرفتاری کے دوران مسلم لیگ ن کی قیادت میں سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا، دونوں بھائی جیل میں اکیلے ہی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے اور خود ہی اپنے مقدمات کا سامنا بھی کیا۔

دوسری جانب خواجہ سعد رفیق اور مسلم لیگ ن برطانیہ کے ذرائع نے پارٹی سے علیحدگی کی خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ برطانیہ میں مقیم لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی رہنما کا پارٹی چھوڑنے کی خبر فی الحال جھوٹی اور من گھڑت ہے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: