کرونا نے ایک اور صحافی کی زندگی نگل لی، ساتھیوں‌ نے یادیں‌ شیئر کر کے سب کو افسردہ کردیا

کرونا نے ایک اور صحافی کی زندگی نگل لی، ساتھیوں‌ نے یادیں‌ شیئر کر کے سب کو افسردہ کردیا

کرونا وائرس کی دوسری لہر اس قدر مہلک ثابت ہورہی ہے کہ اس نے جان لینا کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، ملک میں یومیہ اموات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

چند گھںٹوں قبل ہم نیوز سے وابستہ سینئر صحافی طارق محمود ملک بھی ہم سب کو تنہا چھوڑ گئے، وہ ملنسار، عاجزی پسند اور جفا کش صحافی تھے جنہوں نے ہمیشہ نئے آنے والوں کو سپورٹ کیا اور بالخصوص نوجوان صحافیوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی۔

طارق ملک کی طبیعت گزشتہ کئی روز سے خراب تھی، انہیں سانس میں تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں چند روز پہلے وینٹی لیٹر پر منتقل کیا، اسلام آباد کے اسپتال میں وہ دم توڑ گئے، ان کی زندگی کرونا وائرس نے نگل لی۔

طارق ملک کے انتقال پر صحافیوں، صحافتی تنظیموں نے افسردگی کا اظہار کیا اور کہا کہ شعبہ صحافت ایک اچھے اور ملنسار شخص سے محروم ہوگیا۔

علی اکبر نے بتایا کہ سال 2020 صحافی برادری کے لئے غموں کا سال رہا، کرونا کیخلاف لڑتے ہمارے کئ دوست شہید ہوئے ۔اللہ درجات بلند کرے۔ انہوں نے تمام صحافیوں کی یادگار تصاویر بھی شیئر کیں۔

نوجوان صحافی اور پرڈیوسر اسد طور نے لکھا کہ ’میرے صحافت کے ابتدائی دنوں کے سب سے پیارے بڑے بھائی طارق ملک صاحب چلے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون‘۔ انہوں نے نصیر الدین نصیر کا ایک شعر اجڑ گیا ہے چمن، لوگ دلفگار چلے کوئی صبا سے کہو، اب نہ بار بار چلے یہ کون سیر کا ارماں لئے چمن سے گیا کہ بادِ صبح کے جھونکے بھی سوگوار چلے بھی تحریر کیا۔

انڈیپینڈنٹ اردو سے وابستہ خاتون صحافی مونا خان نے طارق محمود کے ساتھ اسکردو کی یادگار فلائٹ کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ ’سکردو کی فلائٹ ، 2017 میں طارق صاحب کے ہمراہ ایک یادگار سفر۔۔ طارق سر اب بس ہمارے پاس آپ تصویروں میں ہی رہ گئے ہیں‘۔

عاصم علی رانا نے لکھا کہ ’انااللہ وانا الیہہ راجعون ۔۔ ہمارے دوست اور بھائی طارق ملک صاحب کرونا کے باعث اپنی ابدی منزل کو پہنچ گئے، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے،، ان کی تمام کوتاہیاں درگزر فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔‘

محسن رضا خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’انا اللہ وانا الیہ راجعون طارق محمود ملک محنتی اعلی تعلیم یافتہ اور پیشہ ور صحافی مخلص اور بہترین دوست تھے وہ جنگ ARY سما ہم سمیت کئی چینلز میں رہے 2008 کے انتخابات میں انہوں نے امیدواروں کے انٹرویوز کا پروگرام میری آواز سنو بھی کیا اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے آمین‘۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے جیو نیوز کے رپورٹر اور سینئر صحافی لحاظ علی نے بھی طارق محمود کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’میرے انتہائی قریبی دوست ، کلاس فیلو ، اسلام آباد کے سینئر صحافی اور ملنسار انسان طارق محمود کرونا کے باعث انتقال کر گئے ہیں ۔۔۔انہیں اپنی تنہائی کی دعاوں میں یاد رکھیں‘۔

اے آر وائی نیوز کے سینئر رپورٹر فیض اللہ خان نے افسوس کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ ’طارق بھائی بھی چلے گئے ،اچھے انسان تھے خوش اخلاقی پیشہ وارانہ مہارت رکھتے تھے نرم لہجہ اور مسکراہٹ انکی شناخت تھی اللہ پاک اگلی منزلیں آسان فرمائیں یہ اموات ہمیں یاد دھانی کراتی ہیں کہ سفر مختصر ہے تیاری کرلو کہ وہاں اعمال ہی مدد گارہیں‘۔

آئی بی سی اردو کے ایڈیٹر اور معروف پرڈیوسر و نوجوان صحافی سبوک سید نے لکھا کہ ’ہمارے عزیز دوست اور صحافی طارق محمود ملک صاحب کورونا سے لڑتے لڑتے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ 2004 میں جیو نیوز اسلام آباد میں بطور رپورٹر آیا تو طارق بھائی جنگ میں رپورٹنگ کرتے تھے۔ ہم رک جاتے ہیں لیکن خبریں نہیں رُکتیں۔ہم سب ایک دوسرے کے لیے فقط ایک خبر سے زیادہ ہے ہیں کیا ہیں؟‘

اپنا تبصرہ بھیجیں: