عزیر بلوچ قتل کے ایک اور کیس میں‌ بری، ضمانتوں‌ پر رہائی کی بازگشت

عزیر بلوچ قتل کے ایک اور کیس میں‌ بری، ضمانتوں‌ پر رہائی کی بازگشت

کراچی: لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو مقامی عدالت نے ایک اور کیس میں باعزت بری کردیا، دو ہفتوں میں عزیر بلوچ کو چار مقدمات میں بری کیا گیا ہے۔

ذرائع نمائندے کو موصول اطلاعات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج جوڈیشل کمپلیکس کراچی میں شہری کے اغواء قتل کیس کی سماعت ہوئی، اس مقدمے  لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو نامزد کیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت میں چالان پیش کیا جس پر عدالت نے گزشتہ ہفتے جراح کر کے متعدد بار گواہان کو طلب کیا مگر وہ جج کے سامنے پیش نہ ہوسکے۔ آج ہونے والی سماعت میں جج نے قتل کے ایک اور مقدمہ کا فیصلہ سنایا جس میں عزیر بلوچ کو عدم شواہد کی بنیاد پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا گیا۔

سماعت کے موقع پر عزیر بلوچ کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

دوسری جانب لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کی سنگین مقدمات میں ضمانتوں پر رہائی کی بازگشت پر لیاری کے علاقہ مکینوں نے شدید ردعمل دیا اور نو مور گینگ وار کے نعرے لگائے۔مکینوں کا کہنا تھا کہ قانون کی گرفت میں آنے کے بعد عزیر کے لیے سب کو انسانی حقوق یاد آرہے ہیں، اُس وقت خاموشی اختیار کیوں کی گئی جبکہ کچی اور اردو بولنے والوں کے گلے کاٹے جارہے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ کی ضمانتوں پر رہائی کے حوالے سے چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، کیونکہ اداروں نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: