محکمہ ایجوکیشن ورکس میں کروڑوں کے گھپلے

محکمہ ایجوکیشن ورکس میں کروڑوں کے گھپلے۔۔۔۔ وزیر تعلیم سندھ کی ساکھ اور اسکولوں کی تعمیر کو دائو پر لگا دیا گیا۔۔۔

کراچی: محکمہ ایجوکیشن ورکس ڈسٹرکٹ ملیر کے21کروڑ لاگت کے ٹھیکوں کی مبینہ خریدوفروخت کا انکشاف،وزیر تعلیم سندھ کے نام پر چہیتے کنٹریکٹرز میں مبینہ بھاری نذرانوں کے عیوض ٹھیکوں کی بندر بانٹ کردی گئی ، شہر کے سینئر کنٹریکٹرز میں سخت بے چینی اور اشتعال ، افسران کی بھاری کمیشن وصولی نے اسکولوں کی تعمیرومرمت اور معیار کو داﺅ پر لگا دیا، ایکسئن ملیر پر سنگین کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات عائد،کنٹریکٹرز کا اعلی تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ،شہر کی ایک معروف این جی او بھی ٹھیکوں کی بندر بانٹ کیخلاف میدان میں آگئی، عدالت عالیہ سے رجوع کا فیصلہ کرلیا،۔تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت محکمہ ایجوکیشن ورکس کے کرپٹ افسران نے اسکولوں کی تعمیرو مرمت کے 21 کروڑ لاگت کے ٹھیکوں کی مبینہ خریدوفروخت کرکے اسکولوں کی تعمیر اور اس کے معیار کو داﺅ پر لگادیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ایجوکیشن ورکس ڈسٹرکٹ ملیر کے ایکسئن خالد ظفر شیخ کی جانب سے بن قاسم اور گڈاپ ٹاﺅن میں موجود اسکولز وکالجز کی تعمیر ومرمت کیلئے21کروڑ لاگت کے ٹینڈرز طلب کئے گئے تھے جنہیں 14جنوری 2021ء کو کھولا جاناتھا،ذرائع کا کہناہے کہ محکمے کے افسران نے مذکورہ کاموں کا اوپن کمپٹیشن کئے بغیر چہیتے اور لاڈلے کنٹریکٹرز کو مبینہ بھاری نذرانوں کے عیوض کامیاب قرار دیکرکروڑوں کے ٹھیکے ٹھکانے لگادیئے ہیں جبکہ ٹینڈرز میں حصہ لینے کے خواہش مند دیگر ٹھیکیداروں کو ٹینڈرز میں حصہ ہی نہیں لینے دیا گیا جس پر کنٹریکٹرز میں سخت اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے موقع پر سخت احتجاج بھی کیا ، کنٹریکٹرز کے مطابق ایکسئن ڈسٹرکٹ ملیر خالد ظفر شیخ نے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا نام استعمال کرکے من پسند ٹھیکیداروں کو غیر قانونی طور پر ٹھیکے الاٹ کئے ہیں جبکہ اس سلسلے میں بھاری نذرانے وصول کئے گئے ہیں ،کنٹریکٹرز کا کہنا ہے کہ محکمہ ایجوکیشن ورکس کے افسران نے وزیر تعلیم سندھ کے نام پر ٹھیکوں کی بندر بانٹ کرکے ان کی نیک نامی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے،کنٹریکٹرز نے اس سلسلے میں وزیر تعلیم سندھ سعید غنی سے موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے، جبکہ کروڑوں کے ٹھیکوں میں کی جانے والی لوٹ مار کی تحقیقات اور متعلقہ افسران کیخلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے ،دوسری طرف شہر کی ایک معروف این جی او بھی اسکولوں کی تعمیرومرمت کے ٹھیکوں میں کی جانے والی لوٹ مار پر میدان میں آگئی ہے اور اس سلسلے میں عدالت عالیہ سے رجوع کا فیصلہ کیا گیا ہے،شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ افسران کی کرپشن اور کمیشن خوری کے باعث اسکولوں کی تعمیرومعیار داﺅ پر لگ گیا ہے جس کا اعلی حکام فوری نوٹس لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: