سرسید سینتالیس سیکٹر انچارج … کراچی کا کرب بیان کرتا عثمان جامعی کا ناول

سرسید سینتالیس سیکٹر انچارج … کراچی کا کرب بیان کرتا عثمان جامعی کا ناول

معروف رائٹر، صحافی اور شاعر عثمان جامعی نے کراچی کے ماضی کے حالات پر سرسید پینتالیس سیکٹر انچارج کے نام سے ایک ناول تحریر کیا ہے، جو اختتامی مراحل میں داخل ہوگیا۔ اس ناول کو اٹنلانٹس پبلشر کی جانب سے شائع کیا جائے گا جبکہ ترویج و ترسیل کا کام رواں پبلشر انجام دے گا.

معروف افسانہ نگار اور صحافی اقبال خورشید نے اس ناول کے حوالے سے مختصر ریویو تحریر کیا جس کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ ناول شہر قائد کے ماضی کے حالات کو بیان کرے گا اور اُس میں کراچی کے خون خرابے کا تذکرہ کیا جائے گا۔

ناول ویسے تو اپنے آخری مراحل میں ہے مگر پبلشر کی جانب سے مارکیٹ میں دستیابی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

اقبال خورشید نے لکھا کہ ’عثمان جامعی نے یہ ناول لکھ کر کراچی کی سیکڑوں خوابیدہ کہانیوں کو جگا دیا ہے! کراچی، کہانیوں سے پُر شہر ہے، اور اکثر کہانیاں کرب ناک ہیں۔ مگر کہانی کار کے لیے فقط کرب بیان کرنا کافی نہیں۔ قطعی نہیں۔ فن کار تو وہ ہے، جو اس کی گہرائی میں اترے، اس کے اسباب تک رسائی پائے، بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑے، ان میں احساس کا طلسم پھونکے، اور پھر چابک دستی سے اُسے فکشن کر دے۔

عثمان جامعی نے یہ ناول لکھ کر کراچی کی سیکڑوں خوابیدہ کہانیوں کو جگا دیا ہے!
کراچی، کہانیوں سے پُر شہر ہے، اور اکثر…

Posted by Rawaan Books on Saturday, January 16, 2021

’’عثمان جامعی نے لہورنگ کراچی کو منظر کرنے کے لیے ماضی میں جست لگائی ہے، وہ سفر کرتا ہوں تہ تک پہنچا، اور ایک موتی پاگیا۔ یہ کہانی کراچی کے کرب کو، سیاسی و سماجی نشیب و فراز کو منظر کرنے کا بھرپور عزم ہے۔ یوں لگتا ہے کہ عثمان جامعی نے یہ ناول لکھ کر اس شہر کی سیکڑوں خوابیدہ کہانیوں کو جگا دیا ہے۔ کاٹ دار نثر کے حامل ایک حساس شاعر سے ہمیں جس کتاب کی توقع تھی، وہ جلد آپ کے ہاتھوں میں ہوگی!‘‘۔

سینئر صحافی عارف عزیز نے عثمان جامعی کے متوقع ناول پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’سر سید، سینتالیس سیکٹر انچارج (نوشابہ کی ڈائری) کے مصنف محمد عثمان جامعی ہیں جبکہ اس کے سرورق کو شہزاد مسعود نے تیار کیا، سرورق پر برسوں پرانی تصویر ایک نئی کتاب(ناول) کے ساتھ ہے‘۔

رواں پبلشر کا تعارف

واضح رہے کہ کراچی میں قائم رواں پبلشر کے قیام کا مقصد اردو ادب کی ترویج ہے، ادرے کی جانب سے مصنف کو نہ صرف مشورے فراہم کیے جاتے ہیں بلکہ ادارہ کم آمدنی والے لکھاریوں کی تصنیف شائع کرنے میں مدد بھی فراہم کرتا ہے۔ رواں کی جانب سے اس سے قبل بھی کئی کتابیں شائع کی جاچکی ہیں جن میں سے چند میں مصنف کی جیب سے ایک رویپہ بھی خرچ نہیں ہوا بلکہ ادارے نے اردو کی خدمت اور نوجوانوں کی دلچسپی بڑھانے کے لیے وہ کتابیں شائع کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: