بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے لیے غیر مشروط امدادی پیکج

بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کیلئے غیر مشروط امدادی پیکچ۔۔۔شکیلہ شیخ

پاکستان کا صوبہ بلوچستان اپنی مثال آپ ہے جو قدرتی خوبصورتی اور معدنیات سے مالامال ہے۔سرسبز پہاڑ، گنگناتے چشمے، آبشاروں سے نکلتا صاف پانی، قدرتی جنگلات، جھرنے اور آبشار تو دوسری طرف مکران سے ملحقہ7کلو میٹرسے زائد سمندری پٹی ہے ا س ساحل کی لمبائی پاکستان کے کل 1046کلو میٹر ساحل میں سے 720 کلو میٹر ہے اور یہ سمندر اپنے حسن اور خوبصورتی میں دنیا کے کسی بھی سمندر سے کم نہیں ہے اور خوبصورت قدرتی جزیرے یہ ساری فطری مناظر دیکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔


ایک طرف جہاں بلوچستا ن قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے وہی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بلوچستان کی عوام غربت کی چکی میں پس رہی ہیں ایک رپورٹ کہ مطابق بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ 62 فیصد دیہی آبادی غربت کی سطح سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہیں یہی نہیں بلکہ صوبے میں غربت کی شرح میں روزبروز اضافہ ہورہاہے اگر جائزہ لیاجائے تو ماضی کی حکومتی پالیسیوں، بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور عدم توجہ اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کو بڑی وجوہات قرار دیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان میں لوگوں کی غربت اور ان معیار زندگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ صوبے میں صرف بیس فیصد افراد کو پینے کے لئے صاف پانی ملتا ہے اوربلوچستان میں کوئی بڑی صنعتیں نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی کارپوریٹ سیکٹر اورغیرسرکاری ادارے ہیں۔لوگوں کاانحصار اپنے کاروبار اورسرکاری ملازمتوں پر ہے جو بہرحال بہت محدود ہیں اور کروناوباء کے باعث لوگو ں کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کووڈ- 19 سے زیادہ تر دیہاڑی دار مزدور طبقے متاثر ہوئے ہیں۔لسبیلہ ایک پسماندہ ضلع ہے یہاں کے لوگ محنت مزدوری کرکے اپنا روزگار کرتے ہیں کووڈ۔ 19کی وجہ سے دیہاڑی دار مزدور بے روزگاری کا شکار ہوئے ہیں۔ان لوگوں کے مسائل کو کم کرنے کے لئے بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں ورلڈ فوڈپروگرام کے تعاون سے ترقی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام کووڈ- 19 سے متاثر دیہاڑی دار مزدور طبقے کی مالی مدد کی جارہی ہے اسی غیر مشروط امدای پیکج کا مشاہدہ کرنے کیلٸے پاکستان کونسل آف میڈیا وومین کی روح رواں سینٸر صحافی حمیرا موٹالا کی سربراہی میں کراچی کےصحافیوں نے اوتھل لسبیلہ کا دورہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق لسبیلہ کے چھ یونین کونسل میں غریب دیہاڑی دار مزدور طبقہ میں 22کروڑ روپے تقسیم کیے جارہے ہیں اس منصوبے کے تحت تقریباً چار ہزار سات سو اکتالیس افراد کو ہرماہ سات ہزار پانچ سو روپے نقد فراہم کئے جارہے ہیں۔ ترقی فاؤنڈیشن کے امجد رشید کے مطابق اس مشکل وقت میں ہم نے پسماندہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر غیر مشروط امدادی پیکچ شروع کیا ہے جو صرف و صرف غذائی قلت کو دور کرنے کیلئے ہیں ہمارا جانچنے کا نظام بہت سخت ہے کئی بار کراس چیک کیا جاتاہے جانچ پڑتال اور مکمل تصدیق کے بعد متاثرین کے خاندانوں کی فہرست تیار کی جاتی ہے جس کے بعد بینکنگ میکانزم اور بائیومیٹرک سسٹم کی تصدیق کے بعد ہی متاثرین کو نقد رقم فراہم کی جاتی ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے نمائندے سمیع عطا کے مطابق نقد رقم اور راشن کی تقسیم کرنے کا مقصد غذائی ضروریات کو پورا کرناہے ورلڈ فوڈ پروگرام کا مقصد غذائی قلت کا شکار لوگوں،میں استحکام پیدا کرناہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام 2020کی رپورٹ کے مطابق پاکستا ن میں تیس لاکھ سے زائد افراد خاص طور پر سندھ و بلوچستان میں خشک سالی و غذائی قلت کا شکارہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ان منصوبوں کی تقسیم کو شفاف اور غیر جانبدار بنایاجائے تاکہ واقعی میں مستحقین تک ان کا حق پہنچ سکے، اسطرح کی تنظیمیں نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے میں حکومت کے تعاون سے عوام کاساتھ دے رہے ہیں ان منصوبوں سے غربت کا خاتمہ کافی حد تک ممکن ہے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل
zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو
جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: