سعودی عرب کی پاکستان سمیت 20 ممالک پر سفری پابندیوں‌ کے مقاصد جانیے

سعودی عرب نے پاکستان سمیت بیس ملکوں پر عارضی سفری پابندی لگادی

سعودی وزارت داخلہ نے بیان جاری کرکے کہا ہے کہ سعودیوں، سفارتکاروں، صحت کارکنان اور ان کے اہل خانہ کے سوا تمام افراد کے سعودی عرب آنے پر عارضی پابندی لگادی گئی۔ عمل درآمد بدھ تین فروری 2021 بدھ سے ہوگا۔

پابندی کا اطلاق پاکستان، بھارت، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر 17 ممالک پر ہوگا۔ ان ممالک کے سعودی عرب میں مقیم شہری اپنے وطن واپس آسکتے ہیں مگر انہیں واپس جانے کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔

پابندی کا مقصد کیا ہے؟

سعودی عرب کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی کا بنیادی مقصد کرونا کی روک تھام اور کیسز کا خاتمہ ہے، حکومت پابندی کے بعد ویکسینیشن کے عمل کو یقینی بنائے گی اور کیسز کو قابو کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ عمرہ سیزن کو بھرپور انداز سے کھولا جائے۔

پابندی ختم ہونے کے بعد سعودی عرب جانے والے شہریوں کو لازمی ویکسینیشن کروانا ہوگی، اُس کے بغیر انہیں مملکت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہی پابندی عمرہ زائرین کے لیے بھی ہوگی۔ ریاض یا جدہ پہنچنے کے بعد تمام لوگوں کا کرونا ٹیسٹ ہوگا جبکہ روانگی کے 72 گھنٹے قبل بھی انہیں کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ حاصل کرنا ہوگی۔

ایئرپورٹ پر ہونے والے ٹیسٹ کے بعد وہاں پہنچنے والے شہری خود کو کم از کم تین روز کے لیے قرنطینہ کرلیں گے، رپورٹ منفی آنے کی صورت میں انہیں مزید سفر کی اجازت دی جائے گی۔

پی آئی اے آپریشنز بحال رہے گا

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے اعلان کیا ہے کہ عارضی پابندیوں کے نفاذ کے بعد بھی فلائٹ آپریشن جاری رہے گا، جس کے تحت سعودی عرب سے وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کو سفری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: