بلدیاتی اداروں‌ میں‌ تصادم کا خطرہ، صورت حال سنگین ہوگئی

بلدیاتی اداروں‌ میں‌ تصادم کا خطرہ، صورت حال سنگین ہوگئی

کراچی کے بلدیاتی اداروں میں باہم ٹکراؤ کی صورتحال خراب ہوتی ہوئی بروقت اقدامات نہیں کئے گئے تو معاملات سنگینی اختیار کر سکتے ہیں اٹھارویں ترمیم کے نتائج مثبت کے بجائے منفی برآمد ہوئے اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو لسانیت کی آگ میں جھونک دیا ہے.

بلدیاتی اداروں میں گزشتہ چار مہینوں میں اندرون سندھ سے افسران وملازمین کی کراچی کے بلدیاتی اداروں میں کھلم کھلا تعیناتیاں اہم وجوہات مقامی افسران وملازمین کو بے یارو مددگار صورتحال جھیلنا پڑ رہا ہے ایم کیوایم پاکستان نے اس سلسلے میں آواز اٹھانا شروع کر دی

روزنامہ اردو بلیٹن کراچی نے چند ماہ پہلے اپنی مورخہ 29، اکتوبر 2020ء بروزجمعرات کی  اشاعت اس حوالے سے خبر شائع کی تھی کہ بلدیاتی کونسل افسران کے لیئے ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے جو بلدیاتی افسران و ملازمین کی حق تلفیوں پرآواز اٹھانے کے ساتھ انکو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ ہو اداروں میں تیزی سے آفیسرز ویلفئیر ایسوسی ایشنز کو حتمی شکل دی جارہی ہے جو ممکنہ مسائل سے بچنےکا راستہ بھی ہےمقامی افسران و ملازمین تعینات ہوں تو شہریوں کےمسائل تیزی سے حل ہونا شروع ہو جائیں گےورنہ بلدیاتی اداروں کا منظر نامہ اچھا نہیں ہے۔



نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: