کراچی میں دو خواتین سمیت چار ٹک ٹاکرز کی ہلاکت، معاملہ سنگین ہوگیا، پولیس تفیش میں‌ اہم انکشافات

کراچی میں دو خواتین سمیت چار ٹک ٹاکرز کی ہلاکت، معاملہ سنگین ہوگیا، پولیس تفیش میں‌ اہم انکشافات

کراچی: شہر قائد کے علاقے گاڑن پولیس ہیڈ کوارٹر کے قریب نبی بخش پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع انکل سریا اسپتال کے سامنے فائرنگ سے خاتون سمیت 4 افراد کے قتل کا واقعہ دو روز قبل پیش آیا، جس کو ابتدائی تحقیقات میں ذاتی دشمنی، عشق و جنون کو قرار دیا گیا تھا۔

کراچی تھانہ نبی بخش کی حدود میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت چار افراد کےقتل کے معاملے میں  انوسٹی گیشن ٹیم کے مطابق خاتون جسکا نام مسکان معلوم ہوا ہے ایک ٹک ٹاکر تھی اور لانڈھی کی رہائشی تھی اسکے علاوہ طلاق یافتہ اور ایک بیٹے کی ماں تھی اور بلدیہ ٹاؤن کے رہائشی عامر عرف بلا سے پیار کرتی تھی۔

واقعے سے ایک رات قبل وہ رکشہ میں سوار ہو کر بلدیہ ٹاؤن PK ھوٹل نزد روبی موڑ آئی اور عامر عرف بلا کو کال کر کے بلایا عامرعرف بلا نے اپنے دوست شاہد نامی شخص سے کار لی اور مسکان کو لیکر صدام آفریدی کے گھر پہنچا جہاں دونوں نے ٹک ٹاک ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی، جس کے بعد مسکان، صدام آفریدی اور رحان شاہ عرف انعام ، عامر ڈیفنس کی طرف روانہ ہوئے۔

ذرائع کے مطابق انہوں نے کھانا کھا کر مسکان کو لانڈھی اسکے گھر چھوڑنا تھا مگر اچانک رات 3 بجکر 20 سے 30 منٹ کے درمیان انکل سریا اسپتال کے سامنے نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی روک کر فائرنگ کی جس سے مسکان اور عامر عرف بلا کو گولیاں لگیں جس سے وہ زخمی ہوگئے، اسی اثناء میں صدام آفریدی اور انعام شاہ کار سے اتر کر بھاگے تو نامعلوم افراد نے پہلے صدام آفریدی کو گولیاں ماری اور بعد میں انعام شاہ کو انکل سریا اسپتال کے گیٹ پر گولیاں ماری دیں۔ نامعلوم ملزمان نے دوبارہ کار میں موجود مسکان اور عامرعرف بلا کو دم گولیاں ماریں اور فرار ہوگئے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مسکان سے جنون کی حد تک پیار کرنے والا ایک عاشق جس کا نام رحمان معلوم ہوا ہے لانڈھی کا رہائشی ہے نے اس سے قبل بھی صدام آفریدی اور عامر عرف بلا کے سامنے مسکان کے کان کے قریب فائر مارا تھا اور کہا تھا کہ مسکان کے لیے مجھے سو آدمیوں سے بھی ٹکر لینی پڑے تو میں لونگا جس کا بعد میں شاہ جی نامی شخص ( مبینہ منشیات فروش ) جو کہ لانڈھی میں رہتا ھے کے ڈیرے پر صائم تنولی مبینہ( پیپلزپارٹی کارکن) کے سامنے راضی نامہ بھی ہوا تھا۔

صدام آفریدی و انعام شاہ کی کچھ دن پہلے گلشن غازی میں ہوائی فائرنگ کی ویڈیو بھی وائرل ھوئی تھی جس پر اعلی افسران کے حکم پر تھانہ اتحاد ٹاؤن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا انعام شاہ اور صدام آفریدی ضمانت پر تھے۔ صدام آفریدی پر بھی منشیات فروشی کے الزامات تھے صدام آفریدی کا بھائی بھی پچھلے دنوں اتحاد ٹاؤن تھانہ میں منشیات کے مقدمہ میں بھی بند ھوا تھا جو کہ فی الوقت جیل میں ہے۔ ذرائع کے مطابق صدام آفریدی تحریک انصاف کا کارکن تھا جبکہ اُس کے رکن اسمبلی ملک شہزاد اعوان سے بھی تعلقات تھے، واقعے میں مرنے والے چاروں مقتول آپس میں گہرے دوست تھے جبکہ صدام آفریدی کی ذاتی دشمنی بھی چل رہی تھی جسکی وجہ سے وہ ہر وقت اسلحہ سے لیس رہتا تھا جب کہ اسکا دوست انعام شاہ بھی ہمہ وقت اسلحہ سے لیس رہتا تھا۔ حیرت انگیز طور پر جائے وقوعہ سے ان کا اسلحہ نہیں ملا شبہ یہ بھی ہے کہ سفاک قاتل انکا اسلحہ بھی چھین کر فرار ہو گئے۔  مسکان نامی خاتون کا عاشق رحمان جسکی مسکان کے ساتھ سوشل میڈیا پر ویڈیو بھی موجود ہیں۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرنے کے بعد تحقیقات شروع کیں تو معاملہ سنگین ہوگیا اور اس دوران منشیات فروشی کے حوالے سے بھی شواہد سامنے آئے ہیں، تفتیشی افسر کے مطابق مرنے والی خاتون کو بھی اس سارے معاملے یعنی منشیات فروشی کا علم تھا۔ پولیس حکام واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں، البتہ ابھی تک کوئی حتمی رپورٹ مرتب نہیں کی جاسکی۔

پولیس ذرائع کے مطابق گارڈن میں لڑکی سمیت 4 افراد کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے 2 سینئر انسپکٹرز کی سربراہی میں ٹیم بنادی گئی ہے جس نے جاں بحق افراد کی کالز کا ریکارڈ حاصل کرلیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قتل کے شبے میں پولیس عبدالرحمان اور آصف نامی شخص کی تلاش میں قائد آباد،لانڈھی اور دیگر علاقوں میں چھاپے مار رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں مشتبہ افراد منشیات فروشی میں بھی ملوث رہے ہیں اور مقتولین سے بھی رابطہ میں تھے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: