’الطاف حسین کے جرائم کی سزا مہاجر قوم کو نہ دیں‘ :‌ الیکشن آفس سیل ہونے کی مذمت

’الطاف حسین کے جرائم کی سزا مہاجر قوم کو نہ دیں‘

کراچی میں الیکشن آفس کی افتتاحی تقریب کے دوران الطاف حسین کے ترانے بجنے پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی دوڑیں لگ گئیں، جس کے بعد دفتر کو سیل کردیا گیا۔

کراچی کے علاقہ گلستان جوہر میں گزشتہ شام متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنما عامر خان نے انتخابی دفتر کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب کے دوران کارکنان اور ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد موجود تھی۔

پروگرام کے دوران اچانک متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کے ترانے بجنا شروع ہوگئے جس پر منتظمین اور پارٹی رہنما فوری گانے بند کروانے کیلئے ساؤنڈ سسٹم کے پاس پہنچ بھاگئے جبکہ پروگرام میں شریک لوگ حیران وپریشان ہوئے۔

ایم کیو ایم رہنماؤں نے ساؤنڈ سسٹم والے سے الطاف حسین کے ترانے بجانے پر بازپرس بھی کی، جس کے بعد سیکیورٹی ادارے موقع ہر پہنچے اور انہوں نے ساؤنڈ سسٹم کو ضبط کر کے آپریٹر کو تفتیش کے لیے منتقل کیا۔

ایم کیو ایم کے کارکنان بے گناہ نکلے، سزائے موت ختم، باعزت بری

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے الیکشن آفس کو سیل کردیا، جبکہ اس معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دفتر سیل ہونے کے بعد ایم کیو ایم قیادت نے سیکیورٹی حکام سے بات چیت بھی کی اور انہیں معاملے کی وضاحت پیش کی۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ تفتیشی عمل مکمل ہونے اور اطمینان کے بعد ایم کیو ایم کو چند روز میں دفتر کھولنے کی دوبارہ اجازت مل جائے گی۔ الیکشن دفتر کا افتتاح پی ایس 88 کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے حوالے سے کیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم نے سابق رکن اسمبلی ساجد احمد کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

دوسری جانب مہاجر امن واک کا انعقاد کرنے والے نوجوان رہنما احسن قریشی نے ایم کیو ایم پاکستان کے دفتر کو سیل کرنے کی مذمت کی۔ اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ “الطاف حسین کے جرائم اور بے ہودگی کی سزا پوری مہاجر قوم اور کراچی کو نہ دیں”۔

انہوں نے کہا کہ “کسی فرد کی غیر دانستہ غلطی پر الیکشن آفس کو سیل کرنا زیادتی ہے، ایم کیو ایم پاکستان کو سیاست کرنے دیں”۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ اور دیگر حلقوں کے سامنے اپنے جائز سیاسی دفاتر کی حوالگی کا مطالبہ کئی بار کرچکی ہے، ہر بار انہیں امید دلائی جاتی ہے جس کے بعد معاملہ رفع دفع ہوجاتا ہے۔

یاد رہے کہ 2016 سے قبل سیکیورٹی اداروں کی تحویز پر ایم کیو ایم کے تمام دفاتر کو بند کیا گیا جبکہ سرکاری اراضی پر قائم یونٹ و سیکٹر آفسسز کو مسمار کردیا گیا تھا۔

https://www.facebook.com/100020701508184/posts/705112703522107/?app=fbl

دفاتر مسمار ہونے کے بعد بالخصوص گزشتہ بلدیاتی حکومت نے اپنے پارٹی معاملات چلانے کے لیے یونین کونسل آفس کا سہارا لیا تھا، مدت ختم ہونے کے بعد اب وہاں بھی گہما گھمی ختم ہوچکی ہے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: