کراچی کی قبضہ سوسائٹی گلشن توحید، ہزاروں‌ لوگوں‌ کا ڈوبا پیسہ اس میں

کراچی کی قبضہ سوسائٹی گلشن توحید، ہزاروں‌ لوگوں‌ کا ڈوبا پیسہ اس میں

کراچی: رپورٹ علی زمان اعوان نمائندہ کرپشن واچ ۔۔ کراچی کی انوکھی سوسائٹی گلشن توحید جہاں پلاٹ کم فائلیں زیادہ قانون خاموش جعلساز قانون کی گرفت سے آزاد ہیں، وراثت کے مال کو باپ کی جاگیر سمجھ کر لوٹنے والے بہروپیوں کے چہرے بہت جلد منظر عام پر آئیں گے، منگھو پیر میں گلشن توحید کے نام پر بننے والی سوسائٹی پر لٹیروں کا راج عوام پریشان، تیس پینتیس سال قبل بننے والی سوسائٹی میں لاقانونیت اور لوٹ مار کا بازارگرم ہے۔

منگھو پیر قبضہ مافیا کے حوالے سے ویسے ہی ضلع ویسٹ کا مہشور علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں جعلی فائیلیں زمینوں پر قبضہ کاغذات میں ردوبدل سرکاری زمینوں پر قبضوں کے علاوہ لوگوں کا مال بھی واراثت کا مل سمجھ کر ہڑپ کر لیا جاتا تھا، گلشن توحید کی ہی مثال لے لیں جہاں پر سنگین قسم کے گھپلے ابھی بھی جاری ہیں سوسائٹی پر اب نوکروں کا قبضہ ہے نوکر کروڑ پتی کیسے بنے یہ سب لوگ جانتے ہیں۔

گلشن توحید میں اس وقت لاقانونیت اور لوٹ کھسوٹ کا راج ہے لٹیروں نے نہ پارک کی جگہ چھوڑی نہ گلیاں کئی گلیاں بند کرکے بیچ دی گئیں مگر قانون ابھی تک خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے کسی بھی لینڈ سے متعلقہ محکمے نے ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا کیونکہ واراثت کے مال کو باپ کی جاگیر سمجھ کر لوٹا اور بانٹا جا رہا ہے جب کروڑوں کما کر لاکھوں بانٹ دیے جائیں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا گلشن توحید میں بااثر ٹولہ اب بھی قابض ہے کیونکہ انکی سیٹنگ ہر جگہ موجود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مال کماتے ہیں اس لیے سب کو کھلاتے ہیں حیرت کی بات یہ ہیکہ گلشن توحید کی گلیاں تک بک گئیں مگر ہر طرچ خاموشی ہی خاموشی ہے کون کون لوگ گلشن توحید میں سہولت کاری کا کام کر رہے ہیں کن کن کی تھانوں چوکیوں میں سیٹنگ ہے کون تنازعات کو حل کرتا ہے یا کراتا ہے کون جعلی فائلیں بنا رہا ہے کون فائلیں خریدنے کا مکروہ دھندے کرتا ہے یہ سب ہم بہت جلد تصویروں کے ساتھ عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے لائیں۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: