گجرنالہ، مکانات کی مسماری پر احتجاج کرنے والے متعدد نوجوان گرفتار، AWP کی شدید مذمت

گجرنالہ مکانات انہدام کے خلاف آپریشن، متعدد نوجوان گرفتار، مقدمہ درج

کراچی: گجرنالہ پر قائم مکانات کے انہدام کے خلاف مکینوں نے ضیا الدین اسپتال کے باہر پرامن احتجاج کیا، جس کا ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے سیکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

عوامی ورکرز پارٹی کی مقامی قیادت نے مکانات کے انہدام اور ہونے والی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اعلامیہ اے ڈبلیو پی

کل گجر نالے کے قریب موجود گھروں کی مسماری کے خلاف کوثر نیازی کے علاقہ مکینوں کی جانب سے کامیاب پر امن مظاہرے کے بعد علاقے کے نوجوانوں کو پولیس نے آدھی رات کو حراست میں لے لیا۔ ان میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں جو مظاہرے میں موجود ہی نہ تھے۔

آج جب عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے کراچی کے جنرل سیکریٹری خرم علی، سندھ کے نائب صدر حسن ایلیا اور کراچی کی ویمن سیکریٹری لیلی رضا حیدری تھانے پہنچے تو ان نوجوانوں کو پانی تک فراہم نہ کیا گیا تھا۔ کل کا دھرنا انتہائی پرامن تھا اور کسی شہری نے کوئی شکایت درج نہیں کی۔

ایسے میں ایس ایچ او کی اپنی مدعیت میں شرپسندی کی دفاعات لگا کر مقدمہ درج کرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ احکامات ان عناصر کی جانب سے آئے ہیں جو گجر نالے کی صفائی کی آڑ میں ان زمینوں پر قبضہ کرنا چاہ رہے ہیں۔

ہماری تمام ترقی پسند جمہوری اور انسان دوست لوگوں خاص کر کراچی والوں سے اپیل ہے کہ محنت کشوں کے ساتھ ہونے والی اس نا انصافی کے خلاف زیادہ سے زیادہ آواز اٹھائیں۔

قبل ازیں ایک روز قبل اے ڈبلیو پی نے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ

‏جب کے سی آر کے نام پر غریب آباد و دیگر علاقوں، سرکاری کوارٹروں کے نام پر مارٹن کوارٹر کے گھر مسمار کرنے کے منصوبے تیار ہوئے تھے تب ہی ہم نے کہا تھا کہ یہ کھیل کراچی کی زمینوں کو لینڈ مافیا کے حوالے کرنے کا ہے۔
اب گجر نالے کی صفائی اور ملیر ایکسپریس وے کے نام پر بڑی بڑی آبادیوں کے سروں سے چھت چھینی جا رہی ہے۔ افسوس مگر یہ ہے کہ ہم کراچی والے تب تک سوتے رہتے ہیں جب تک ہمارے اپنے گھر کی باری نہیں آ جاتی۔ آپ کی زمینیں ہتھیانے والے یہ نہیں دیکھتے کہ آپ کا رنگ نسل و مذہب کیا ہے۔
کراچی پر پہلے ہی چند اداروں اور ان کے گماشتہ حکمران و بلڈر مافیا کا قبضہ ہے۔ سیاسی و شخصی پابندی لگا کر کراچی کی عوام سے سیاسی فیصلہ سازی کا حق بھی لے لیا گیا ہے اور تعداد کو بھی کم دکھایا گیا ہے جبکہ اپنے ہی تلوے چاٹنے والوں کو کراچی کے نام پر سیاست کرنے کو چھوڑ رکھا ہے۔
ایسے حالات میں کسی پر آسرا کئے بغیر کراچی والوں کو ایک تحریکی انداز میں ہر ظلم کے خلاف نکلنا پڑے گا اور آواز اٹھانی پڑے گی۔ لیاری والے کو ناظم آباد اور لیاقت آباد والے کو ملیر کے لئے باہر آنا ہوگا۔ خدارا رنگ نسل زبان مذہب سے ماورا ہو کر کراچی کے لئے یکجا ہو جائیں ورنہ ہم سب شہر سے باہر ہوں گے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل
zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ
ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور
مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو
جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: