نظم: گلدستے میں‌ تم اچھے تھے۔ سیدمحبوب احمدچشتی

نظم: گلدستے میں‌ تم اچھے تھے۔ سیدمحبوب احمدچشتی

تم سےچاہت ،اپنائیت اس وسلیے کیوجہ سےتھی

جسکوتم نےاپنےمنہ سےیہ بتایاتھا

دنیا کو بتلیا تھا یہ ہمارامحسن ہے۔

اُس وقت ! تم واقعی بہت اچھےتھے

جب تک ایک گلدستے میں تھے۔

تربیت، نظریات عہدوفا

یہ سب کھبی آسمان کی بلندی پرتھے

جب تم سب ایک تھے

ایک گلدستے کی مانند

پھولوں کی طرح مہکتے تھے

لوگوں کو بھی متاثر کرتے تھے

ایک گلدستے میں تھےاچھےتھے۔

پریشانیاں،مشکلات، آزمائشیں تھیں

یہ سب آسان تھیں جب سب ایک تھے

ایک دوجے کی تکلیف پر

تم بھی درد سمجھتے تھے

اُس وقت تم واقعی بہت اچھےتھے

ایک گلدستے میں تھےاچھےتھے

یاد رکھو! گھاٹ گھاٹ کے پانی وکھاد

آبیاری سے پھل نہیں اگتے

 اگر اگ بھی جائیں تو یہ

پھل و سایہ دار نہیں ہوتے

سب کےساتھ رہنےسے

پھول خزاں سے لڑتے ہیں

موسم کی سختی کو، یہ شکست دیتے ہیں

تم جانتے ہو! پھول کب خزاں رسیدہ نہیں ہوتے

 یہ پھول جب گلدستے میں ہوں

ایسے پھول لڑتے ہیں، اپنی بقا و حق کے لیے

مضبوط دشمن کو بھی، یہ للکار دیتے ہیں

حلق کے اُن سے اپنا حق یہ چھین لیتے ہیں

پھر اب تم الگ پھول ہو، گلدستے سے الگ ہو

چند گھنٹے، دو چار دن کی

اب تمھاری حیات ہے

ایسی حیات جس کے گزرتے ہی

سب تم کو بھول جائیں گے

اب بھی وقت ہے بیٹھو اور سوچو

اگر تم ایک گلدستےمیں رہتے

آج کہاں کھڑے ہوتے، منہ کو آنے والے دشمن کو

کیسے تم زیر کرتے ! مگر اب بہت دیر ہوئی

تم میدان میں تنہا اترے

چراغ ہاتھوں میں تھامے

جس کو بجھائے بیٹھے ہو

گراؤنڈ پر بھی لیٹے ہو

اب تم بہت ہی برئے ہوئے

اُس وقت تم اچھے تھے

جب تک ایک گلدستہ تھے


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں، مختصر کہانیاں اور شاعری بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

نظم: گلدستے میں‌ تم اچھے تھے۔ سیدمحبوب احمدچشتی” ایک تبصرہ

  1. I have recently started a blog, the info you provide on this web site has helped me greatly. Thank you for all of your time & work.

اپنا تبصرہ بھیجیں