ایم کیو ایم کی سینیٹ‌ نشستوں‌ پر فتح کے پیچھے کون؟ تجزیاتی رپورٹ

برسو ں سے جیت کی آس جنرل ،ضمنی انتخابات میں شکست منتشر،منقسم ایم کیوایم پاکستان کی  سینیٹ میں کامیابی تجزیہ: سیدمحبوب احمدچشتی

برسو ں سے جیت کی آس جنرل ،ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد منتشر،منقسم ایم کیوایم پاکستان کی سینٹ میں کامیابی نے اندرونی وبیرونی مسائل سے دوچار یہ جیت بلاشبہ انکے اعتماد میں اضافہ کا سبب بنے گا،مختلف قیاس آرائیوں اور ذرائع ابلاغ میں چلنے والی ہارس ٹریڈنگ کی خبروں نے کنونیر ایم کیوایم پاکستان خالد مقبول صدیقی کی حکمت عملی نے اس جیت نے اہم کردار ادا کیا۔

ماضی میں اس طرح کی مثالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ شاندار حفاظتی ایسے اقدامات کیئے کہ تمام اراکین نے اپنی وفاداری کچھ اسطرح سے ظاہرکردی کہ سوشل میڈیا میں حق پرست ایم این اے ووٹ ڈالنے سے قبل ایک گروپ فوٹو وائرل کردیا جس کا کیپشن یہ تھا کہ ،نہ بکنے والے ۔۔۔ نہ دبنے والے ۔۔۔

نہ جھکنے والے ایم کیو ایم پاکستان کے حق پرست ایم این ایز قومی اسمبلی میں سینیٹ کا ووٹ ڈالنے سے قبل کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ہمراہ ،ایم کیوایم پاکستان نے اپنی جماعت کے کنونیئر سمیت لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہونچائی،صورتحال میں ڈرامائی تبدیل حیران کن اسلیئے نہیں ہے کہ حیدر گیلانی کی وڈیولیگ کرنے کے پیچھے مقاصد اہل نظر سمجھتا تھا کہ کس مقصد کے تحت یہ وڈیو کلپ وائرل کروایا گیا حیدر گیلانی کے الفاظ ہی اصل میں سینٹ کے نتائج کااعلان تھے سوشل میڈیا پر چلنے والے تین سطروں نے سینٹ میں کچھ سینیٹرز کی کامیابی کے ساتھ ساتھ انکے عزائم بھی عیاں کردیئے تھے۔

حیدر گیلانی کی وڈیو کلپ کے بعد سوشل میڈیا میں جیسے طوفون آگیا مختلف قیاس آرائیوں میں سے ایک ٹویٹ نے سب کو اپنی جانب ضرور متوجہ کیا ہوگا ایم کیوایم پاکستان نے اپنے کنونیر اور جماعت کے ساتھ تو وفاداری نبھادی پھر بے وفائی کس کے ساتھ ہوئی یہ اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے؟ ،سوشل میڈیا میں چلنے ان سطروں نے پہلے حیران اور پھرپریشان کردیا کہ سیاست میں اخلاقی طرز فکر کھبی کی عنقا ہوچکی ہے نہ جانے برسوں سے ملنے جلنے والے ساتھ کھانے پینے والے بھائی کب صاحب ہوجاتے ہیں۔

یہ ہمارے سیاست کا حسن ہے اچھا یا برا ہے اس بحث میں نہیں جانا چاہتا آئے ان سطروں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں افسوس تو ہے مگر جب علی حیدر گیلانی نے کہا کہ باقی ارکان اسمبلی سے ایم کیو ایم کے ریٹ تھوڑے اوپر ہیں تو سن کے اچھا لگاافسوس کے ماضی کی طرح اس بار بھی ہمیں بیچا،خوشی اس بات کی کے ریٹ باقیوں سے زیادہ لیے اس جانب زیادہ توجہ دینے کی نہیں ہے کہ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے کسی نے سامنے آکر کونسا اقرار کرلینا ہے کہ میں 90دن کاچلہ کاٹ کر آئونگا اور حاجی نمازی پرہیزگار بن جائوںگا ،عمران خان کو سیاسی چالبازیوں عیاری مکاریوں کو سمجھنے میں بہت وقت لگے گا جیلوں میں بند ہوکر پی ایچ ڈی کرنے کے ساتھ ان کو اپوزیشن کا بھی احترام کرنا ہوگا سیاست بہت بے وفا چیز ہے شہرقائد کی سیاست پر تھوڑا سا وقت نکال غور فکر کرلیتے تو آپکو سمجھ میں آجاتا کہ اس شہر میں باپ ،استاد ،کے احترام کا رشتہ بہت کم نظر آئیگا۔

میں نے (کم ) کا لفظ استعمال کیا ہے اور ایک نصیحت جو مجھے کسی دوست نے کہی تھی کہ جواولاد اپنے ماں باپ کی نہیں ہوتی انکو اپنا دوست نہیں بنائو کیونکہ وہ تماری کھبی بھی تمارے خیرخواہ نہیں ہوسکتے اس اچانک کروائی جانے والی سیاسی اپ سیٹ (معذرت) ہوجانے والی صورتحال میں ڈرامائی صورتحال میں اعتماد کا ووٹ فیصلہ کردیگا کہ فتح اصل میں کس کی ہوئی ہے اس شہباز گل کے ٹویٹ کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی ٹویٹ میں کہا گیا کہ (وزیراعظم کو ایک دوست نے مشورہ دیا کہ فوزیہ ارشد کو 174 ووٹ ملے ہیں۔

اعتماد کے ووٹ vote of confidence کی کوئی ضرورت نہیں۔  وزیراعظم کا جواب تھا کہ کیا مجھے PDM کی طرح کا چوہا سمجھ رکھا ہے جو اقتدار کے لئے ڈر ڈر کے فیصلے کرے گا۔  میں سیاست میں اقتدار کے کئے نہیں آیا میرے اصول اقتدار سے بڑے ہیں وزیراعظم صاحب پی ڈی ایم نہیں جیتی کیونکہ کہ پیپلز پارٹی جیتی ہے یہ کھیسانی ہنسی کے ساتھ مسکراتے پی ڈی ایم کے چہرے صاف بتلا رہے ہیں اور اس سینٹ کے انتخابات سے مزید یہ بات قوی ہوچکی ہے کہ پاکستان میں سیاست میں نظریات واحترام وفا نام کی شدید کمی ہوچکی ہے جو جتنا بڑا مفاد پرست ہوگا وہ ہی اعلیٰ مقام پر فائز ہوگا۔ایم کیوایم پاکستان اس کامیابی پر شکر ادا کررہی ہوگی کہ چلو خاموشی وسکون میں رہنے کی وجہ سے ہم جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: