زمین ایک؟ قوم ایک؟ قانون ایک نہیں؟

زمین ایک؟ قوم ایک؟ قانون ایک نہیں؟

آج 23 مارچ جہاں قوم سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر یومِ پاکستان کا دن منارہی تھی، کچھ نام نہاد قوم پرست کراچی اور کچھ شہروں میں پاکستان مخالف نعرے لگاتے ہوئے بھی نظر آئے۔ ٹوئٹراور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستان مخالف ٹرینڈز چلاتے ہوئے نظر آرہے تھے۔



مگر شاید انہیں روکنے والا کوئی نہیں، گرفتار کرنے والا کوئی نہیں، دفاتر پر تالے اور گھروں پر چھاپے مارنے والا کوئی نہیں۔۔۔ آخر کیوں ایک ہی شہر میں اردو بولنے والوں کیلئے الگ اور دیگر کیلئے الگ قانون ہے؟ شاید اس کی وجہ سندھ حکومت میں بیٹھے سندھودیش کے چاہنے والے ہوں۔ مگر یاد رہے جب ‫پختون تحفظ موٶمنٹ کے کارکنان پاکستان کے خلاف نفرت انگیز نعرے بازی اور دیگر حرکات کرتے ہیں تب بھی ریاست کی جانب سے خاص ایکشن دیکھنے میں نہیں آتا۔ جب کے 18مارچ کے دن عزیزآباد اور اطراف میں ہونے والا لاک ڈاؤن سب کے سامنے ہے، جہاں مخلتف روڈز کو بلاک کردیا گیا تھا، آنے اور جانے والوں سے پوچھ گچھ کی جارہی تھی۔

بیشک جو پاکستان مخالف سرگرمیاں کرے اس کے خلاف ایکشن ضرور ہونا چاہیئے مگر ایک جیسا، مختلف قومیتوں، زبانیں بولنے والوں کیلئے مختلف قانون نہیں ہونا چاہیئے۔ کیوں کے اس عمل سے نفرت کے علاوہ اورکچھ نہیں ملتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: