Haq Do Karachi ko

حقوق، کراچی اور ریلیاں

Haq Do Karachi ko

حقوق، کراچی اور ریلیاں

کراچی میں سیاست کرنے والی تقریبا تمام جماعتیں الگ الگ لفظوں، جملوں میں ہی سہی مگر، اس بات کو ضرور مانتی ہیں کراچی کو اس کے حقوق نہیں مل رہے۔ ان جماعتوں کا سیاست کرنے کا طریقہ، موقف، نظریات الگ الگ ہوسکتے ہیں مگر یہ کراچی میں بظاہر اس بات کو مانتے ہیں کہ جو کراچی کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ غلط ہے۔ کراچی کے حقوق کیلئے، اپنی سیاست چمکانے کیلئے یا اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے یہ مختلف جماعتیں ریلیاں، جلسے جلوس اور دیگر سیاسی تقریبات بھی کرتی رہتی ہیں۔

اس معاملے میں جماعت اسلامی کے کردار کو ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ کراچی میں صرف ایک ایم پی اے کی سیٹ رکھنے والی جماعت اسلامی اور خاص طور پر جماعت اسلامی کراچی کے سربراہ انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے جس طرح کراچی کے مقدمے کو لڑا ہے وہ بے شک دیگر جماعتوں سے کئی گناہ بہتر ہے۔ کل 28 مارچ 2021 کو ہونے والی “کراچی کو حق دو” ریلی ہو جو دھرنے میں تبدیل ہو گئی تھی یا پھر اس سے قبل ہونے والی مختلف ریلیوں، جلسے جلوسوں میں نعیم الرحمن نے کھل کر کراچی کے حقوق کی بات کی وہ قابل تعریف ہے۔

مگر۔۔۔۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی بھی فیصلہ آخری نہیں ہوتا، جماعت اسلامی کراچی کے حقوق پامال کرنے کی سب سے بڑی ذمہ دار جس سیاسی جماعت کو سمجھتی تھی اس ہی پیپلز پارٹی سے وفاقی سطح پر ہاتھ ملایا گیا ہے۔ جس کے بعد مختلف حلقوں اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اس کے باوجود کل ہونے والی “کراچی کو حق دو” ریلی میں پیپلزپارٹی پر شدید تنقید کی گئی، نعیم الرحمن صاحب نے تو سندھ اسمبلی کو “وڈیرا آباد” کرار دے دیا۔
دوسری طرف دیکھا جائے تو 25 مارچ کو ہونے والے ایم کیو ایم کے جلسے میں بھی کوٹہ سسٹم ختم کرنے، دوبارہ مردم شماری کرنے اور الگ صوبے جیسے مطالبات کیے گئے جو ہر مرتبہ کیے جاتے ہیں۔

مگر صورت حال یہ ہے 60 سے 70 فیصد ملک کا ٹیکس دینے والا، معیشت کو چلانے والا کراچی اب جلسے جلوسوں سے تھک چکا ہے، بےروزگاری انتہاء کو ہے جس کی وجہ سے چوری چکاری کے واقعات بھی شدت آ چکی ہے۔ اب جلسے جلوسوں کی نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پانی سر سے اوپر جاتا نظر آ رہا ہے۔ پچھلے سال کی طرح اس سال (اللہ نہ کرے) اگر بارشوں نے کراچی کو دریاؤں جیسے صورتحال میں تبدیل کردیا تو ہو سکتا ہے کراچی والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے۔ یہ نہ ہو کے چپ رہنے کے بجائے کراچی والے حکمرانوں کا کراچی میں داخلہ ہی بند کردیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: