سندھ حکومت “سب کو موقع دو” پالیسی پر گامزن، تیسری بار کابینہ میں تبدیلی کا امکان

“سب کو موقع دو“ سندھ کابینہ میں تیسری بار رد وبدل

کراچی: رپورٹ (مزمل فیروزی)سب کو موقع دو کے مصداق سندھ کابینہ میں عام انتخابات 2018سے ابتک تیسری بار ردو بدل ہونے جارہی ہے، پہلی مرتبہ اگست 2019اور دوسری بار فروری 2020میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑکی گئی اب تیسری مرتبہ کچھ منتخب اور پسندیدہ جیالوں کو اضافی ذمہ داریاں دئے جانے کا امکان ہے جبکہ متعدد وزراء سے قلمدان واپس لئے جانے کی بازگشت سنی جارہی ہے اس وقت سندھ کابینہ میں سترہ وزراء، سولہ وزیر اعلی سندھ کے اسپیشل اسسٹنٹ اور تین مشیران کو ملا کر ٹوٹل چھتیس افراد وزیراعلی سندھ کی ٹیم میں شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ کابینہ میں ردوبدل کچھ دنوں میں متوقع ہے اسی بابت پیپلز پارٹی اپنے وزراء کو اعتماد میں لے رہی ہے، وزراء کے قلمدان میں تبدیلیاں کابینہ میں نئے پارلیمنٹرین کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے جبکہ پرانے جیالے وزراء کی کارکردگی کو بھی جانچناہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود وزراء کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور سندھ کابینہ میں ردوبدل چیئرمین کی ایماء پرہی ہونے جارہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپورکے سب سے چہیتے وزیر سید ناصر حسین شاہ پانچ قلمدان رکھتے ہیں جس پرجیالوں کی طرف سے اکثر و بیشتر اعتراضات اٹھتے رہتے ہیں کہ جماعت میں اور کوئی بھی شاہ صاحب جتنا قابل و باصلاحیت نہیں کہ وہ ان وزارتوں کو سنبھال سکے یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو کی ذاتی دلچسپی اور مداخلت کے باعث ناصر حسین شاہ سے بلدیات کا قلمدان واپس لیاجارہا ہے اس سے قبل وزیر بلدیات کا قلمدان سعید غنی کے پاس تھا مگر گزشتہ مون سون کی بارشوں کے دوران انہیں اپنے ہی لوگوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑاتھا اس کے بعد وزیر بلدیات کا قلمدان سید ناصر حسین شاہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ سعید غنی کے پاس اس وقت وزیر تعلیم کا قلمدان ہے جو کہ اس وقت کے وزیرتعلیم سید سردار شاہ کے متنازعہ بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سندھ میں ایک لاکھ چوتیس ہزار اساتذہ،، اساتذہ کہلانے کے لائق نہیں جس پر شاہ صاحب کی جماعت کے ہی لوگوں نے کافی تنقید کی تھی اور پھر اگست 2019میں کابینہ میں ردوبدل کے بعدسید سردار شاہ سے تعلیم کا قلمدان واپس لے لیا گیا تھا اور کچھ عرصے تعلیم کا قلمدان وزیر اعلی نے اپنے پاس رکھاتھا اور پھر سعید غنی کودیا گیا تھا اب اطلاعات یہ ہےکہ دوبارہ سعید غنی سے تعلیم کا قلمدان واپس لیاجانے والا ہے کیونکہ محکمہ تعلیم میں تقریبا بتیس ہزار اسامیاں خالی ہیں ان کو بھی تو بھرنا ہے۔ عبدالباری پتافی جوکہ لائیو اسٹاک اور فشریز کے وزیر ہیں انکے خلاف بھی شکایات کا انبار ہیں حال ہی میں لائیو اسٹاک ایکسپو 2021حیدرآبادکے حوالے سے انکو مشکلات کا سامناکرنا پڑاہے جس پر اٹھارہ کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود وہ کارکردگی نہ دکھا سکے جبکہ سندھ ثقافتی میلہ ٹنڈوآدم ایک کامیاب پروگرام ہوا مگر اس پروگرام میں لائیواسٹاک نے شرکت نہیں کی یہی وجہ ہیکہ کابینہ کے لوگ ہی ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں لہذا ان کو بھی وزرات سے فارغ کیا جارہاہے، ایک اور جیالے وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو جو کہ انکوائریز ااور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا قلمدان رکھتے ہیں ان سے بھی چارج واپس لیا جارہاہے, اقلیتی وزیر ہری رام جوکہ وزیر خوراک بھی ہے ان سے بھی قلمدان واپس لیا جارہاہے جبکہ دوسری طرف نئے چہروں کو بطور وزراء متعارف کرائے جانے کا امکان ہے تاکہ دوسرے پارلیمینٹیرین کو بھی اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع میسر آئے یا دوسروں الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ بار بیٹھ کر تالی بجانے والوں کو موقع دیا جائے کہ وہ بھی سندھ کو پیرس بنانے میں اپنا کردار اداکرے۔ ذرائع کے مطابق تھر سے ارباب لطف اللہ، دادو سے فیاض بٹ، ملیر سے ساجد جوکھیو اور کئی نئے اور پرانے چہرے وزراء کی فہرست میں شامل کئے جائینگے۔یاد رہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 93ویں یوم پیدائش کی تقریب میں بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا تھا کہ سینیٹ انتخابات کے بعد سندھ کابینہ میں ردوبدل کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ واقعی یہ ردو بدل صرف و صرف سب کو موقع دینے کے واسطے ہیں یا واقعی سندھ حکومت نوجوانوں کو سامنے لا کر کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یہ تو آنیوالا وقت ہی بتائے گا۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل
zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ
ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور
مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو
جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: