حالیہ پرتشدد مظاہروں سے معیشت کو ہونے والے نقصان ہر نقصان تجزیہ کیوں نہیں ہورہا؟

معیشت کے نقصان کی رپورٹ کیوں نہیں آرہی؟

لاہور: پنجاب کے دارالحکومت سے تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ٹی ایل پی کارکنان نے شدید احتجاج کیا۔

یہ مظاہرے کہیں پرتشدد بھی ہوئے، جن کے دوران دو پولیس اہلکاروں کی شہادت اور ساڑھے تین سو سے زائد زخمی بھی ہوئے۔

ٹی ایل پی کارکنان اور قیادت نے ہائی ویز، موٹرویز پر دھرنا دیا ہوا تھا جس کی وجہ سے آمد و رفت بالکل معطل تھی۔

کراچی میں بھی مختلف مقامات پر ٹی ایل پی کارکنان نے دھرنے دیے، اورنگی، بلدیہ، حب ریور روڈ ، ٹاور پر دھرنوں کی وجہ سے عوام کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کئی گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔

تین روز تک ملک بھر میں ہونے والت مظاہروں کی وجہ سے کراچی کے تجارتی، کاروباری اور بازار بند ہوئے۔ حیران کن طور پر اتنے دن کاروبار بند رہنے یا کھل بند ہونے پر کسی معاشی تجزیہ کار یا تاجر رہنما نے ایک دن کی بندش کے نقصان تک کا تذکرہ نہیں کیا جبکہ ماضی میں ظلم کے خلاف ہونے والی ہڑتالوں پر اعداد و شمار پیش کیے جاتے تھے۔

سیاسی رہنما رضا ہارون نے سب سے پہلے اس مسئلے کو اجاگر کیا اور اپنے جذبات کا اظہار ٹویٹ میں کیا۔ انہوں نے لکھا کہ “‏حالیہ پرتشدد واقعات اور بڑے شہروں، ہائی ویز اور شاہراہوں کی بندش کے باعث ملک کو اب تک کتنے ارب روپے کا نقصان ہو چکاہے؟ معاشی ایکسپرٹ سے درخواست کہ عوام کو لازمی بتائیں، نامعلوم یہ تجزیے “اب” کیوں نہیں رپورٹ ہو رہے؟”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: