رقابت، حسد اور جلن ۔۔۔۔ تحریر: سیّد شاہد پاشا

رقابت، حسد اور جلن ۔۔۔۔ تحریر: سیّد شاہد پاشا

رقابت، حسد اور جلن کا احساس ناصرف انسانوں میں ہوتا ہے بلکہ یہ جزبے جانوروں اور حتیٰ کے فرشتوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ جزبے محض دنیاوی ہی نہیں بلکہ کائناتی اور آفاقی بھی ہیں اور فطرت کے عین مطابق بھی ہیں اور بنیادی انسانی جبلت بھی ہیں۔

جب یہ طے ہے کہ رقابت، حسد اور جلن انسان کے بس سے باہر کی بات ہے تو پھر یہ سوچنا چاہیے کہ ان سے کیسے بچا جائے، مگر میرا یہ ماننا ہے کہ ان سے کیونکر بچا جائے؟

یہ جزبات انسان میں چاہ، تجسس، خوب سے خوب تر کی تلاش اور آگے نکل جانے کی جستجو کو پروان چڑھاتے ہیں اور ایک مثبت مطابقت یا دوڑ کو جنم دیتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ جزبات برے نہیں اچھے ہیں، مگر ان کو سوچنے کا عمل اور اس پر چلنے کا طریقہ کار مثبت یا منفی ہوسکتا ہے، اصل بات اس کو سمجھنے کی ہے۔

اب اگر کلاس میں کوئی بچہ ذہین ہے اور پوزیشن لاتا ہے تو دوسرے بچوں میں احساس رقابت پیدا ہونا لازمی ہے اور اس احساس سے مغلوب ہو کر دوسرے بچے زیادہ محنت کریں اور امتحانات میں زیادہ اچھے نمبر لے کر اس بچے سے آگے نکل جائیں تو یہ ایک مثبت عمل ہوگا۔

مگر دوسری طرف کوئی ایک بچہ رقابت کے احساس سے مغلوب ہوکر یہ ترکیبیں یا سازشیں کرنے لگے کے کیسے اس بچے کو نیچا دکھایا جائے اور اگلے امتحانات سے پہلے ایسے حالات پیدا کردئیے جائیں کہ وہ بچہ امتحان ہی نہ دے سکے یا اسکی کاپیاں کتابیں غائب کردی جائیں غرض یہ کہ کسی طرح اس پوزیشن لینے والے بچے کو نقصان پہنچایا جائے اور اس طرح اسکی عدم موجودگی میں خود کو نمایاں کیا جائے تو یہ عمل سراسر منفی عمل ہے مگر عین انسانی جبلت کے مطابق بھی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں روز مرہ کے معمولات میں یہ بیماری اب عام ہوتی جارہی ہے کہ مثبت پہلو ڈھونڈنے کے بجائے منفی پہلوؤں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے جبکہ اپنی قابلیت بڑھا کر آپ کسی سے بھی آگے نکل سکتے ہیں ناں کہ سازشیں کرکے۔

سازشیں کرنا بیمار ذہنوں کی نشاندہی کرتا ہے اور بیمار سوچ اور ذہن رکھنے والے لوگ معاشرے میں خرابیاں ہی پیدا کرتے ہیں ان سے اچھائی کی امید نہیں رکھی جاسکتی، لہٰذہ ایسے لوگوں کو غیر محسوس طریقے سے معاشرے دور کردیا جائے اور مثبت سوچ رکھنے والے ذہنوں کو زیادہ سے زیادہ موقع دیا جائے۔

جبکہ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اگر جتنی محنت وہ لوگ منفی عمل میں بلا وجہ کسی کو نیچا دکھانے میں کرتے ہیں اگر اتنی محنت اور توجہ اپنے حصّے کے کام میں کرلیں تو من حیث المجوعی نتیجہ لاجواب ہوسکتا ہے۔

لکھاری کا تعارف

شاہد پاشا کراچی کی توانا سیاسی آواز سمجھے جاتے ہیں، وہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی میں ڈپٹی کنونیئر اپنی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں جبکہ ان دنوں ایم کیو ایم پاکستان تنظیم بحالی کمیٹی میں اہم ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

رمضان المبارک میں نہایت مناسب قیمت پر اپنے اشتہارات شائع کروانے کے لیے web.zaraye@gmail.com پر رابطہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں