ٹی ایل پی پر پابندی کے خلاف مفتی منیب سمیت دیگر اکابرین میدان میں آگئے

مفتی منیب الرحمٰن اہلسنت ولجماعت کے اقابرین ،اور مولانا بشیر فاروقی کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں

مفتی منیب الرحمن

اس وقت میرے ساتھ چیئرمین سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ بشیر فاروقی موجود ہیں

گزشتہ چند دنوں سے ملک کرب کی حالت میں ہے

موجودہ صورتحال کے ذمہ دار وفاقی وزراء ہیں

جن وزراء نے معاہدہ کیا وہ اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں

معاہدے میں حکومت نے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی کروائی تھی

لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ لگانے والوں پر گولیاں چلائیں گئی

مختلف ذرائع نے بتایا کہ بہت سے لوگ شہید ہوگئے ہیں

کئی افراد زخمی ہیں

سوشل میڈیا پر جو تصویریں وائرل ہوئیں اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جسم کے بالائی حصے میں گولیاں لگیں

شہداء کے لواحقین کو صبر کی تلقین کرتے ہیں

شہید پولیس والوں سے بھی ہمدردی کا اظہا کرتے ہین
تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے

تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے

ڈنڈے کے زور پر لوگوں کے عقائد کو نہیں بدل سکتے

ہم ان مظالم اور حکومت کے طرز عمل کی شدید مذمت کرتے ہین

حکومت تمام گرفتار عاشقانِ رسول کو رہا کرے

تحریک لبیک کے سربراہ کو رہا کر کے ان سے مذاکرات کیئے جائیں

مطالبہ کرتے ہیں کہ تحریک لبیک پر سے پابندی کا فیصلہ واپس لیا جائے

جعمہ کے خطباء سے درخواست ہے کارکنوں کی رہائی کے لیئے دعا کریں

شہداء کی بخشش کے لیئے دعا کریں

حکمران دوسروں پر فتوے صادر کرنے سے پہلے اپنا ماضی دیکھیں

کیا قانون صرف کمزور کے لیئے ہوتا ہے

ماضی میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ 20 سے 30 افراد نے شاہراہ بند کر کے دہرنا دیا انکو سیکورٹی بھی فراہم کی گئی

اگر حکومت حالات کو بہتر بنانے کے لیئے سنجیدہ ہے تو حافظ سعید رضوی کو رہا کرے

ان کی شورا کو بھی رہا کیا جائے تا کہ وہ مشورہ کر سکیں

کوئی ریاست طاقت کو اپنی عوام کے خلاف استعمال نہیں کرتی

حکومت دل میں نرمی پیدا کرے رمضان کا مہینہ ہے

اللہ حسن سلوک کرنے والوں کو جہنم کی آگ سے بچائے گا

کیا حکمران کو یہ سودہ منظور ہے

اور بھی لوگ جو اسیر ہیں انہیں بھی رہا کیا جائے

تا کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ عید کریں
میں احتجاج کرنے والوں کو سب سے پہلے پر امن رہنے کی تلقین کروں گا

املاک سرکاری ہوں یا نجی کسی کو بھی نقصان نہ پہنچایا جائے

میرے آقا کی زندگی پر عمل کیا جائے انہوں نے تیرہ سال ظلم برداشت کیا

کاش کے حکومت اعلان جنگ اپنے لوگوں کے خلاف نہیں کشمیر کے لیئے کرتی

شیخ رشید صاحب اقتدار آنے جانے والی چیز ہے

آج آپ کے پاس طاقت ہے کل کا کچھ نہیں پتہ

ہم خارجی تعلقات کی نذاکت کو بھی جانتے ہیں اور پاکستان کی مشکلات کا بھی اندازہ ہے

ہم حکمت و تدبر سے چلنا چاہتے ہیں

ہم عملی سیاست میں نہیں ہیں

ہمارا کام درس و تدیس ہے

ہم اپنی قومی ذمہ داری کو ادا کرنےکے لیئے یہاں آئے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں: