NA-249

#NA249 پانی کیلئے ترستی عوام، ووٹ بھی دے گی؟ کس پارٹی کی کیا پوزیشن ہے؟

#NA249 پانی کیلئے ترستی عوام، کس کو ووٹ دے گی؟
کس پارٹی کی کیا پوزیشن ہے؟

NA-249 Election Karachi
NA-249 Election Karachi

کراچی کے حلقے این اے 249 میں ہونے والے انتخاب کی تیاریاں ختم، ووٹنگ کی زور و شور سے جاری۔ سڑکوں سے لے کر چھوٹی چھوٹی گلیوں میں جگہ جگہ سیاسی جھنڈوں اور بینرز کی بھرمار نظر آرہی ہے۔ مگر بلدیہ ٹاؤن کے مسائل کا حل کس کے پاس ہے؟

جن سڑکوں پر سیاسی جماعتیں ریلیاں، جلسے، میٹنگز کررہی ہیں ان سڑکوں پر گاڑی چلانا تو دور پیدل چلنا میں بھی مشکل ہوتا ہے۔ سڑکوں، گلیوں میں گٹر کا پانی اقتدار میں موجود اور پہلے رہنے والی جماعتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

مگر۔۔۔۔ یہ پانی صرف سڑکوں پر ہی نظر آتا ہے، گھروں میں نہیں۔ بلدیہ ٹاؤن سمیت این اے 249 میں رہنے والے اکثر لوگوں کے مطابق ان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے، گھروں میں پینے اور دھونے کیلئے بھی پانی میسر نہیں۔ مجبور عوام کو ٹینکر مافیہ کے رحم و کرم پر چھور دیا گیا ہے۔


اس حلقے سے 2018 میں شہباز شریف کو شکست دے کر فیصل واوڈا منتخب ہوئے تھے، جنیں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کا منصب نصیب ہوا مگر۔۔۔ بدنصیب عوام پھر بھی بوند بوند کے لیئے ترستے رہے۔ حلقے کی عوام فیصل واوڈا کی کارکردگی کی وجہ سے تحریک انصاف سے کافی مایوس نظر آتی ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کے تحریک انصاف کو کارکنان کی کمی کا سامنا ہے مگر پھر بھی تحریک انصاف کے امید وار امجد افریدی نے ایک بہتریں مہم چلائی اور انہیں اپنی جیت کی امید ہے۔


شاید این اے 249 کراچی کا واحد حلقہ ہے جہاں جہاں ن لیگ اپنی پوری قوت سے میدان میں اتری ہوئی نظر آتی ہے۔ پچھلے 2018 کے الیکشن میں اس سیٹ کیلئے شہبازشریف کو فیورٹ کرار دیا جا رہا تھا مگر فیصل واوڈا اور تحریک انصاف ان کی کامیابی میں رکاوٹ ثابت ہوئے تھے۔ اس مرتبہ مفتاح اسماعیل کی الیکشن مہم ٹافیوں کی وجہ سے کافی نظروں میں آئی، مریم نواز بھی یہاں جلسہ کرنا چاہتی تھیں مگر کورونا کی صورتحال کی وجہ سے نہ آسکیں۔ لیکن شاہد خاقان عباسی، محمد زبیر سمیت دیگر رہنما الیکشن مہم میں بھرپور شریک ہوئے۔


اب بات آتی ہے ایم کیو ایم کی۔۔۔ اس حلقے میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک کافی کم نظر آرہا ہے کیوں کے این اے 249 کے اکثرعلاقوں میں اردو بولنے والوں کی تعداد دیگر قومیتوں کے مقابلے میں کم ہے۔ مگر پھر بھی ایم کیو ایم نے یہاں ریلیاں اور کارنرمٹنگز منقد کرکے اپنے ہونے کا احساس دلایا ہے۔ مرکزی رہنماؤں نے جگہ جگہ جاکر انتخابی مہم میں حصہ لیا۔
اس ضمنی انتخاب کے لیے پی ٹی آئی نے ایم کیو ایم سے امیدوار دستبردار کرنے کی درخواست بھی کی تھی جسے ایم کیو ایم نے مسترد کردیا تھا۔ ایم کیو ایم کے امیدوار حافظ مرسلین کو اس حلقے کا رہائشی ہونے کی وجہ سے بھی عوامی حمایت حاصل ہے۔


اس کے بعد بات کرنے ہیں پیپلزپارٹی کی جو اس حلقے میں بظاہر تو زیادہ مضبوط نظر نہیں آرہی مگر اپنے کارکنان اور عوام کو ووٹنگ والے دن گھر سے نکالنا پیپلزپارٹی سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ جتنے وضائل پیپلزپارٹی کے پاس موجود ہیں شاید کسی اور کے پاس نہیں۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کو بھی اپنی جیت کی پوری امید ہے۔ گلیوں گلیوں پیپلزپارٹی کی ریلیاں اور میٹنگ منقد ہوئی ہیں۔ جن میں کارکنان کی بڑی تعداد موجود رہی۔ 2,3 مرتبہ پیپلزپارٹی اور پی ایس پی کے کارکناں میں تصادم بھی ہوا جس میں چند افراد زخمی ہوئے۔


اور آخر میں بات کریں پاک سرزمین پارٹی کی جس کے سربراہ مصطفیٰ کمال خود اس حلقے میں امیدار ہیں۔ مصطفیٰ کمال سے شاید اب تک کی سب سے بہتریں مہم چلائی ہے جس سے نہ صرف نئے کارکنان کی کافی بڑی تعداد کی شمولیت ہوئی بلکے مصطفیٰ کمال کی عوامی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مصطفیٰ کمال اپنے مختلف، دلچسپ اور جارحانہ انداز کی وجہ سے کافی معروف رہے ہیں اور اب اس الیکشن میں جتنی دن رات میٹنگز اور جلسے مصطفیٰ کمال نے کیئے ہیں شاید کسی نے نہیں کیے۔ پی ایس پی کو مہاجر اکثریتی علاقوں کے علاوہ دیگر زبانیں بولنے والوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ پچھلے 3 دن سے روز پی ایس پی اور پیلپزپارٹی کے کارکنان میں تصادم کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔


یہ تو بات ہوگئی ان جماعتوں کی جو 249 کے معرکے میں حصہ لے رہی ہیں۔۔۔۔ مگر ایک جماعت ایسی بھی ہے جس کا ووٹ بینک کافی اہمیت رکھتا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق سے سب سے زیادہ ووٹر ٹی ایل پی کے پاس موجود ہے، مگر کالعدم ہونے کی وجہ سے ٹی ایل پی اس الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتی۔

نتائج چاہے کچھ بھی ہوں مگر عوام کا سوال وہ ہی ہے اور شاید رہے گا ’’پانی کب ملے گا؟‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں: