حلقہ این اے 249: ضمنی انتخاب کی بدترین شکست کے بعد ایم کیو ایم کی پُراسرار خاموشی

ضضمنی انتخاب میں بدترین شکست، ایم کیو ایم کی خاموشی پر کارکنان حیران

کراچی: حلقہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں بدترین شکست کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے چپ سادھ لی ہے جس پر ذمہ داران اور کارکنان بہت زیادہ حیران و پریشان ہے۔

ایم کیو ایم کے ذرائع نے بتایا کہ’این اے 249 میں بدترین شکست انتخابات میں شکست کے بعد رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس نہ بلانا اور بیان یا پریس کانفرنس نہ ہونا حیران کن ہے، دو دن گزرنے کے باوجود نہ رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا ، نہ شکست کے محرکات پر بات چیت کی گئی’۔

ذرایع کا کہنا ہے ہے کہ رابطہ کمیٹی کی جانب سے نہ کوئی بیان جاری ہوا نہ انتخابی نتائج پر تحفظات کے باوجود کوئی بات کی گئی جبکہ ماضی میں انتخابی شکست پر رابطہ کمیٹی اجلاس بلا کر آگے کا لائحہ عمل اور شکست کی ذمے داری کا تعین کرکے ایکشن لیتی تھی۔

ایم کیو ایم کے ذرائع نے بتایا کہ چار سال سے انٹرا پارٹی الیکشن بھی تاخیر کا شکار ہیں ، انٹرا پارٹی الیکشن نہ ہونے سے پارٹی کے نظم و ضبط اور اہم ذمے داریوں کو پورا کرنے میں بھی مشکلات ہیں اور اسی وجہ سے کارکن کنارہ کشی اختیار کررہا ہے ۔

یاد رہے کہ ماضی میں یعنی 2016 سے قبل اگر ایم کیو ایم کسی ضمنی انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا کرتی تھی تو جیت یقینی ہوتی تھی۔ لاتعلقی کے بعد سے صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان نے علیحدگی کے بعد سے اب تک ایک بار عام انتخاب، 2 بار سینیٹ انتخابات اور تین بار ضمنی انتخابات میں حصہ لیا، ہر بار نشستوں کا گراف نیچے آیا۔ ضمنی انتخاب میں اس سے قبل ملیر کی نشست پر ایم کیو ایم کے امیدوار ساجد احمد کو 2500 ووٹ ملے تھے، اس پر بھی ایم کیو ایم نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: