حبیب بینک لمیٹیڈ کا کراچی میں کرونا پھیلانے کا عزم؟

حبیب بینک کا کراچی میں کرونا پھیلانے کا عزم؟

کراچی میں کرونا پھیلنے کی شرح 10 فیصد سے زائد ہوگئی، جس کی وجہ سے تشویشناک حالت میں مبتلا افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

کرونا کیسز میں اضافے کی وجہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونا اور بازاروں یا تجارتی مراکز پر بغیر ماسک، سماجی فاصلے کے شہریوں کا جمع ہونا ہے۔ جہاں بازار اور تجارتی مراکز عوام سے لبا لب بھرے چل رہی ہیں وہیں ایچ بی ایل انتظامیہ بھی کرونا کے خلاف اقدامات میں بالکل ناکام نظر آرہی ہے۔

انتظامی غفلت کی وجہ سے اے ٹی ایم مشینوں پر عوام کا رش، بینک میں عملے کی کمی کی وجہ سے کھاتے داروں کا بینک کے باہر رش لگنا معمول کی بات ہے، جبکہ پینشنز کے لیے آنے والے معمر افراد جو کرونا کا آسان ہدف ہوسکتے ہیں، ان کے لیے بھی کسی قسم کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ حال ایک آدھ نہیں بلکہ ایچ بی ایل کی تمام ہی برانچز کا ہے، اس کے برعکس دیگر بینک اور برانچز میں معمول کے مطابق ایس او پیز پر مکمل نہیں البتہ عمل درآمد ہوتا نظر آرہا ہے۔

شہریوں نے سندھ حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ایچ بی ایل کو دیگر بینکوں کی طرح اقدامات کرنے کی ہدایت کرے تاکہ شہریوں کو کرونا سے بچایا جاسکے اور صارفین آسانی کے ساتھ بینک سروسز استعمال کرسکیں، برانچز کے باہر شامیانہ، کرسیاں اور پنکھا لگانے اور آنے والوں کے ییٹھنے کا بندوبست کرنے کا پابند کیا جائے، گرمی کی وجہ سے کئی شہری بے ہوش بھی ہوچکے ہیں۔

عوامی رش اور غفلت کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ ایچ بی ایل بینک انتظامیہ کی اپنی لاپرواہی اور غفلت ہے، ایک برانچ کا مینیجر خود اس بات کا اعتراف بھی کرچکا ہے کہ انہیں پیچھے سے افرادی قوت فراہم نہیں کی جاتی۔ دوسری اہم وجہ پوسٹوں پر بیٹھے نااہل افسران ہیں، جو کام کرنے سے زیادہ کام نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ادارہ اُن کے خلاف یونین کی وجہ سے کارروائی عمل میں نہیں لاسکتا۔ انتظامیہ اُس وقت سے پہلے ایکشن لے جب یہ تھوڑی سی غفلت پورے کراچی کے لیے خدا نہ کرے کرونا کی وجہ سے ہلاکت خیز بن جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: