انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت، شہر قائد میں انسان جان بہت سستی ہوگئی۔۔۔ تحریر اویس احمد

کراچی کے ’حادثات‘ بانٹتے مین ہولز، انتظامیہ غافل


نارتھ کراچی سلیم سینٹر برج کے بعد جو راستہ یو پی اور ناگن کی طرف جارہا ہے، وہاں ایک یوٹرن بھی موجود ہے، جس کے شروع ہوتے ہی ایک گڑھا (ہول) ہے جو کہ آپ تصاویر میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

یہ گڑھا دن کے وقت تو نظر آجاتا ہے مگر رات کے وقت اس کی موجودگی کا کسی کو علم نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے آئے روز رات کے وقت حادثات رونما ہوتے ہیں، بالخصوص موٹر سائیکل جو دو پہیوں کے ہونے کی وجہ سے توازن برقرار نہیں رکھ پاتے اور گر جاتے ہیں
اس وجہ سے نا صرف بندے کو چوٹ اتی بلکہ بائک کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔


کل رات کے وقت میں اس جگہ سے گزرا تو میرے آگے چلنے والا ایک فوڈ پانڈا کا رائیڈر تھا، جو اس ہول کی وجہ سے گر گیا، جسے اٹھا کر میں نے فٹ پاتھ پر بٹھایا اور موٹر سائیکل کو اسٹینڈ پر کھڑا کردیا۔

تصویریں لیتے وقت ذہن میں ایک بات آئی کہ کوئی بندہ ایسا نہ آجائے جو کہے بس بہت ہوگئی فوٹوگرافی اب لاؤ موبائل ادھر دو اور کچھ ہے تو وہ بھی، خیر اب تو اُن کی خود اعتمادری اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ کہتے نہیں وہ خود ہی تلاشی لیتے اور جو ملتا وہ لیکر چلے جاتے۔ خدا کا شکر ہے ایسا کچھ ہوا نہیں۔ مگر ایسا میرے ذہن میں خیال اس لیے پیدا ہوا کہ آفس سے نکلتے ہوئے اس طرح کی وارداتوں کی خبر سنی تھی جو کہ ائے دن کراچی میں بہت ہو رہی ہیں۔


کراچی مدد کرنے والے ہاتھوں سے بھرا پڑآ ہے تو وہاں سے گزرتا ہر شخص اس فوڈ پانڈا کے رائیڈر سے پوچھ رہا تھا کے بھائی زیادہ چوٹ تو نہیں آئی، تھیک ہو، چلو تمھیں اسپتال لے کر چلتے ہیں۔

خیر خیریت پوچھنے اور ہمدردی کرنے والوں کا رائیڈر نے شکریہ ادا کیا اور بولا بھائی میں ٹھیک ہوں زیادہ چوٹ نہیں آئی، میں نے اپنے دفتر اطلاع کردی ہے، بس بندے لینے کے لیے آتے ہی ہوں گے۔

اس تحریر کا مقصد کچھ اور نہیں بلکہ یہ ہے کہ متعلقہ حکام آنکھیں کھولیں اور اس ہول کو بند کریں، تاکہ لوگ حادثات سے محفوظ رہیں۔

نوٹ: اس واقعے کو پانچ دن سے زائد گزر چکے، مگر وہ گڑھا جوں کا توں موجود ہے، حکومت یا انتظامیہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: