ایم کیو ایم کی غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کی حمایت، سپریم کورٹ‌ سے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

ایم کیو ایم کی غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کی حمایت، سپریم کورٹ‌ سے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے شہر میں جاری غیر قانونی تجاوزات کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے غیر قانونی کاموں کے حوالے سے کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا۔

ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد میں کراچی کی صورت حال اور تجاوزات انہدام کے حوالے سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں کنونیئر خالد مقبول صدیقی، سینئر ڈپٹی کنونیئر عامر خان اور وسیم اختر نے گفتگو کی۔

پریس کانفرنس میں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’کراچی میں قبضوں اور غیر قانونی کاموں پر سپریم کورٹ کمیشن بنائیے، ایم کیوایم سمیت جو بھی ملوث ہے کراچی میں قبضوں پر اسکو لٹکا دیا جائیے، پیپلز پارٹی جواب دے ملک دشمن عناصر کے ساتھ کون ہیں، سندھو دیش اور ملک دشمن نعرے لگانے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 لگوائیں‘۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’مارٹن کوارٹر اور دیگر آبادیوں کو خالی نہیں کرانے دیا جائے گا، اس معاملے پر وفاق سے بات کریں گے، امید ہے کہ معاملے کا کوئی بہتر حل نکل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’جئے سندھ کے نعرے بھی پیپلز پارٹی کی مرضی کے بغیر کیسے لگ سکتے ہیں، کراچی کی زمینوں گوٹھ آباد اسکیموں کے نام پر اربوں نہیں کھربوں روپے کا فراڈ ہوا ہے، کراچی میں ہونے والے قبضوں پر ایک کمیشن قائم کیا جائے۔

انہوں نے کراچی میں جاری تجاوزات کے خلاف آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی میں گزشتہ دو سالوں سے عدالتی حکم پر تجاوزات کے خاتمے کا عمل جاری ہیں،ہم بھی تجاوزات کے خاتمے کے حامی ہیں، شہر میں ایوب خان کے دور سے تجاوزات کے قیام کا عمل شروع ہوگیا تھا، ہم چیف جسٹس اور عدالتوں کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں کیونکہ ہمیں ہمیشہ وہاں سے انصاف ملا مگر تجاوزات کے خاتمے کے لیےجاری آپریشن میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’تجاوزات کی اجازت دینے والوں کا تعلق کراچی سے نہیں تھا، اب وہی لوگ ان عمارتوں کو گرا رہے ہیں، جنہیں تعمیر کرنے کی اجازت دی، پیپلزپارٹی کی جب بھی حکومت آئی ایسے معاملات نہ صرف شروع ہوتے ہیں بلکہ زیادہ ہوجاتے ہیں، عدالتی فیصلوں پر انصاف سے عمل نہیں کیا جارہا، ہم تجاویزات کے خلاف عدالتی فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہیں مگر سیاسی حقوق پر بھی تجاویزات ہورہی ہیں، جو  جعلی ڈومیسائل، جعلی مردم شماری، جعلی الیکشن کے ذریعے  جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’مردم شماری کے نام پر ڈنڈی نہیں ڈنڈا مارا گیا، ہمیں دیوار سے لگایا نہیں بلکہ دیوار میں چُن دیا گیا، سندھ سیکریٹریٹ کو سندھی سیکریٹریٹ بنادیا گیا، کمشنر، پولیس، سندھ پبلک سروسز کمیشن میں کیا تمام لسانی اکائیاں موجود ہیں؟ ، جعلی ڈومیسائل کے ذریعے ہماری ایک لاکھ نوکریاں کھا لی گئیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’فطری تجاویزات ہوتیں تو کوئی مسئلہ نہیں تھا ، فیصلوں پر عملدرآمد کا طریقہ کار اور علاقوں کے چناو سے سوالات اٹھ رہے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا تاثر کچھ اور لیا جائے، شہر قائد کے ہر ادارے میں 70 سے 90 فیصد لوگوں کا تعلق اس شہر سے نہیں ہے، پہلے تو تجاوزات کی اجازت دینے والوں کو گرفتار کیا جانا چاہیے تھا، 35 سالوں سے اس شہر کے رہنے والوں کو دھوکا دیا جارہا ہے،عدالت نے ان معاملات پر ازخود نوٹس کیوں نہیں لیا‘؟۔

وفاقی حکومت کا کراچی کے سرکاری کواٹرز نیلام کرنے کا فیصلہ

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ’کیا انصاف اس وقت ملے گا جب ہم خاک ہوجائیں گے، سندھ کی نسل پرست حکومت کے سائے میں ہونے والے سازشوں کو بھی دیکھا جائے، پاکستان کی تقسیم کے نعرے لگانے والوں کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والوں کو غدار کہا جاتا ہے، چیف جسٹس صاحب ہم آپکے پاس آئین کے آرٹیکل 140 اے پر گئے، چیف جسٹس صاحب سیلیکٹڈ جسٹس اس نو جسٹس، چیف جسٹس صاحب جسٹس ڈیلیڈ اس جسٹس ڈینائڈ۔ چیف جسٹس صاحب ہمیں یقین ہے کہ آپکے فیصلے اس شہر کے حق میں ہونگے، یہ شہر آپ سے بہت پر امید ہے، اس شہر اور صوبے کے طول و عرض میں لگنے والے نسل پرستانہ نعروں کے خلاف ہم سیسہ پلائی دیوار ہیں، ہم پاکستان کے دفاع میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: