دہلی اسلامک سوسائٹی کی کاوش، خون خرابے والا مسئلہ افہام و تفہیم سے حل

دہلی اسلامک سوسائٹی کی کاوش، خون خرابے والا معاملہ افہام و تفہیم سے حل

تلوار میان سے کھینچ لی جائیں، ایک دوسرے پر لوڈ پستول تان لیا جائے یا دو لوگ دست و گریباں ہوں تو اس دوران کسی کے دو میٹھے بول یا شائستہ لیجہ خون خرابے والے معاملے کو ختم کر کے مسئلے کا شاندار طریقے سے حل نکال سکتا ہے۔

ممکن یہ پہلی سطر پڑھنے کے بعد آپ کو یہ کوئی افسانوی بات معلوم ہورہی ہو مگر ایک روز قبل حقیقت میں ایسا واقعہ ہوا، جب دو فریق ایک دوسرے کے خلاف ہر حد تک جانے کے لیے تیار تھے اور کسی بھی نتیجے کی پرواہ نہیں کررہے تھے تو چند نوجوان اٹھے اور انہوں نے شائستہ لہجے میں بات کر کے معاملے کو افہام و تفہیم کے ساتھ نہ صرف حل کروایا بلکہ دونوں سے غلطیوں پر ایک دوسرے سے معذرت بھی کروائی۔

معاملہ کچھ یہ تھا کہ دو روز قبل لیاقت آباد سی ون ایریا میں بچوں کے معاملے پر معمولی تکرار کے بعد جھگڑا ہوا، جس میں ایک سیاسی جماعت کا کارکن کودا اور اپنے دفاع میں پارٹی کارکنان کو بلا کر نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

لیاقت آباد سی ون ایریا میں ہونے والے جھگڑے میں پی ایس 127 یوسی 43 کا کارکن بیچ میں آیا، پھر انہوں نے اکھٹے ہو کر نوجوان گھر کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا۔

جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں دہلی برادری مقیم ہے، ایک گھر میں ہونے والے مسئلے کا معلوم ہوا تو نوجوانوں کی بڑی تعداد متاثرہ گھر کے باہر پہنچی، جنہیں دیکھ کر سیاسی جماعت کے کارکنان رفو چکر ہوئے اور پھر وہاں موجود نوجوانوں نے ایک لڑکے کو پکڑ کر گھر کے کمرے میں تھوڑی دیر کے لیے بند کیا۔ کمرے میں بند کرنے کے دوران اس کی ویڈیو بنی اور دعویٰ کیا گیا کہ لیاقت آباد بی ون ایریا سے سیاسی جماعت کا کارکن ڈکیتی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔

گھر کے باہر ہونے والے جھگڑے کے بعد فریقین نے معاملے پر صلح صفائی کرلی تھی مگر سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور واٹس ایپ پر جب سیاسی کارکن کو ڈکیت ظاہر کرنے والی ویڈیو وائرل ہوئی تو اُس کے بعد معاملہ بہت گھمبیر ہوگیا اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

سیاسی جماعت کی مرکزی قیادت نے اس ویڈیو کا نوٹس لے کر مذکورہ لڑکے کے خلاف تحقیقات کرنے کا ٹاسک ضلع وسطی کے صدر کو سونپا، جنہوں نے معاملے کا پتہ لگایا اور تو معلوم ہوا کہ کسی نے شرارت میں اُسے ڈکیت ظاہر کیا ہے۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور جھوٹ نکلی تو پارٹی قیادت اور کارکنان کا غصہ شدید حد تک پہنچ چکا تھا اور کوئی بھی واقعہ رونما ہوسکتا تھا مگر دہلی اسلامک سوسائٹی کی انتظامی کمیٹی کے عہدیداران نے اسے بہت احسن انداز کے ساتھ حل کیا۔

بعد ازاں ضلع وسطی کی قیادت لیاقت آباد معاملہ حل کرنے کی غرض سے لیاقت آباد سی ون ایریا پہنچی جہاں پہلے اس معاملے کو سڑک پر بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کی گئی، بعد ازاں جب وہاں رش بڑھنا شروع ہوا اور آوازیں اونچی ہوئیں تو دہلی اسلامک سوسائٹی کے عہدیداران نے دونوں فریقین کو اپنے دفتر لے جا کر بیٹھ کر بات کرنے کا مشورہ دیا، جس پر وہ راضی ہوگئے۔

لیاقت آباد ڈکیتی کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو، پی پی کارکن بے گناہ نکلا

جامع مسجد باب السلام کے سامنے واقع دفتر میں رات ایک بجے کے بعد دونوں فریقین پہنچے تو سیاسی جماعت کے کارکنان کی بڑی تعداد پہنچ گئی جبکہ تحریک انصاف کے مقامی عہدیدار بھی وہاں بات چیت کے لیے موجود تھے۔

سیاسی جماعت اور دیگر احباب دہلی اسلام سوسائٹی کے دفتر میں مذکورہ کی نمائندگی کررہے تھے جبکہ دوسرے فریق بھی وہاں موجود تھا۔

دہلی اسلامک سوسائٹی کے عہدیداران نے دونوں فریقین کا مؤقف سننے کے بعد تنازع کا احسن حل نکالا، تو دونوں اس پر راضی ہوگئے۔

دہلی سوسائٹی کے عہدیداران اور سیاسی جماعت کے قائدین کے درمیان معاملے کا افہام و تفہیم کے ساتھ حل نکالنے کے لیے دونوں فریقین کو ایک دوسرے سے معذرت کر کے معافی مانگنے کا مشورہ دیا گیا، جسے انہوں نے قبول کیا اور پھر دونوں بغل گیر ہوکر خوشی خوشی روانہ ہوگئے، یہ بھی طے پایا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں جو الزام عائد ہوا اُسے واپس لے لیا گیا ہے جبکہ مذکورہ لڑکے کو بھی قیادت نے پابند کیا کہ وہ اس طرح کے معاملات میں کودنے سے باز رہے۔

اگر دہلی اسلامک سوسائٹی کے منتظمین اس معاملے میں نہ آتے اور شائستہ لیجے میں گفتگو نہ کرتے تو مسئلہ بہت گھمبیر ہوسکتا تھا، جس کے نتائج شاید کچھ اچھے نہیں آتے، مگر انہوں نے بروقت اقدامات کر کے سب کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھا اور اس سنگین مسئلے کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا۔ یہاں انصاف کے فیصلے کا ذکر یوں کیا گیا کیونکہ کل بیٹھ کر جو مذاکرات ہوئے اُس کے حتمی فیصلے پر دونوں فریق مطمئن تھے اور دونوں نے ہی دہلی اسلامک سوسائٹی کے منتظمین کا شکریہ بھی ادا کیا۔

چند ہفتوں قبل بننے والی دہلی اسلامک سوسائٹی اور وہلی پیس کمیٹی نے اس معاملے کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کر کے پہلے ہی قدم پر کامیابی حاصل کرلی۔ ایسے ہی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب لیاقت آباد امن و سکون اور آشفتی کا گہوارہ بن جائے گا۔ انشاء اللہ


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: