چائلڈ لیبر : سندھ حکومت اور یونیسیف کے درمیان اہم معاہدہ طے

چائلڈ لیبر : سندھ حکومت اور یونیسیف کے درمیان اہم معاہدہ طے

کراچی: سندھ حکومت اور عالمی ادارہ برائے اطفال یونیسف کے مابین سندھ میں چائلڈ لیبر سروے کے حوالے سے اہم معاہدہ طے پاگیا۔

یہ معاہدہ کراچی میں ہونے والی تقریب کے دوران طے پایا، جس میں  میں وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی، سیکرٹری محنت سندھ عبدالرشید سولنگی، یونیسف سندھ چیپٹر کی چیف کلارا ڈوبے، یونیسف چائلڈ پروٹیکشن آفیسر سندھ ڈاکٹر جبین، ڈی جی لیبر بخش علی مہر، سید فرخ اور دیگر بھی موجود تھے۔

معاہدے کے تحت یونیسف، محکمہ محنت اور بیورو آف اسٹیٹس سندھ مشترکہ طور پر سندھ بھر میں چائلڈ لیبر، ان کے اسباب اور اس کے سدباب کے حوالے سے سروے رپورٹ مرتب کریں گے۔ معاہدے کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں کو صنعتوں کے ساتھ ساتھ ڈومیسٹک اور گھریلو ملازمین رکھنے کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔

معاہدے میں 16 سے 18 سال کے درمیان کے بچوں کو سخت کاموں جیسے کہ بائیلرز، مائیننگ، سخت مزدوری، شیشے کی چوڑیوں کی صنعت، کیمیکل اور الیکٹرانک سے متعلق کسی بھی ملازمت میں نہ رکھا جائے اس پر عمل درآمد بنایا جائے گا۔ معاہدے میں ملازمین کو سندھ حکومت کی جانب سے متعین کردہ کم سے کم۔اجرت کی فراہمی کو یقینی بنانے، ان کو تعلیم اور فنی شعبہ کے مواقع فراہم کرنے سمیت دیگر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ معاہدے کے مطابق پہلے مرحلہ مہ ڈسٹرکٹ جامشورو کو چائلڈ لیبر فری ڈسٹرکٹ بنایا گیا ہے اور دیگر اضلاع کو بھی اسی طرز پر چائلڈ لیبر فری ڈسٹرکٹ بنانے کی غرض سے سیمینارز، ریلیاں اور آگاہی مہم شروع کی جائے گی، جس میں بچوں کے والدین کو چائلڈ لیبر سے اجتناب کرنے کی آگاہی دی جائے گی۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ’حکومت سندھ صوبے سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے تمام تر اقدامات بروئے کار لارہی ہے، اس سلسلے میں یونیسف اور محکمہ محنت مل کر سروے مکمل کریں گے اور چائلڈ لیبر کے حقیقی نمبرز سامنے آنے کے بعد ایک وسیع پالیسی مرتب دی جائے گی، اس پالیسی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جائے گا اور صوبے سے چائلڈ لیبر کے خاتمے، اس کے اسباب اور سدباب پر پالیسی مرتب کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: