ایم کیو ایم کا عوامی خدمات کو خاک میں‌ ملانے کا روایت شکن مشن کامیابی سے جاری

ایم کیو ایم کا عوامی خدمات کو خاک میں‌ ملانے کا روایت شکن مشن کامیابی سے جاری

ایم کیوایم ماضی کی روایات شکن عوامی خدمات کے تسلسل کو ناقص کارکردگی کے ذریعے خاک میں ملانے کے لیئے وفاقی وزیر امین الحق پرعزم ،ترقیاتی کام سے عوام کامستفید ہونا خواب بن گیا، وفاق کی جانب سے دیئے جانے والا فنڈ گارے پر مشتمل سڑکیں تعمیراورنگی ٹائون نمبر چارمیں اٹھارہ سال کے بعد تعمیر ہونے والی سڑک تین دن میں ادھڑ گئی، عوامی فلاح وبہبود کی خدمت کا عزم ناقص پالیسی کی نذرفراہمی آب کی لائن لیکیج ہونے کے باوجو د کروڑوں کا فنڈ ضائع کردیا گیا۔

کراچی(رپورٹ:سیدمحبوب احمدچشتی)ایم کیوایم کے ماضی کی روایات شکن عوامی خدمات کے تسلسل کو ناقص کارکردگی کے ذریعے خاک میں ملانے کے لیئے وفاقی وزیر امین الحق پرعزم وفاق کی جانب سے دیئے جانے والا فنڈ گارے پر مشتمل سڑکیں تعمیراورنگی ٹائون نمبر چارمیں اٹھارہ سال کے بعد تعمیر ہونے والی سڑک میں ادھڑ گئی عوامی فلاح وبہبود کی خدمت کا عزم ناقص پالیسی کی نذرفراہمی آب کی لائن لیکیج ہونے کے باوجو د کروڑوں کا فنڈ ضائع کردیا گیا بے حسی کی حدیں اب عبور ہونے لگی ہیں، کراچی میں ترقیاتی کاموں کے نام پر شہریوں کے ساتھ ناقابل تلافی زیادتیاں سامنے آنے لگیں، اورنگی ٹائون نمبر 4 میں اٹھارہ سال کے بعد تعمیر ہونے والی سڑک تین دن میں ادھڑ گئی جبکہ ساتھ ہی حیرت انگیز طور پر شہری جو اسوقت شدید پریشانیوں کا شکار ہیں اور پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اسی سڑک سے متصل نالے میں صاف پانی گر رہا ہے جس سے علاقہ مکین تو پانی سے مستفید نہیں ہو پارہے ہیں البتہ صاف پانی دیکھ کر مخصوص پانی کی مافیا نے اس سے پانی بھر کے فروخت کرنا شروع کر رکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مذکورہ سڑک 18 سال قبل سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان کے دور میں خوشحال پاکستان کے تحت تعمیر کی گئی تھی اس مرتبہ وفاقی وزیر امین الحق کے فنڈ سے یہ سڑک تعمیر ہوئی لیکن صرف یہ کچھ دن اپنا وجود قائم رکھ سکی اور سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے بعد اپنی غلیظ داستان بیان کر رہی ہے سڑک کی تعمیر میں کچرا ڈالا گیا ہے جس سے پلاسٹک کی تھیلیوں سمیت گوبر تک نکل رہا ہے جو اس بات کو عیاں کر رہا ہے کہ سڑک کی تعمیر میں کس قسم کا میٹریل استعمال کیا گیا ہے اس قسم کی تعمیرات معمول کا حصہ بنتی جارہی ہیں اب حد یہاں تک جاپہنچی ہے کہ سڑکیں تین دن سے زائد نہیں گزار پارہی ہیں یہ ہی سڑک اٹھارہ سال قبل جب تعمیر ہوئی تھی اس وقت اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ شہری اس سڑک سے طویل عرصے تک مستفید ہوں لیکن اب منتخب نمائندگان کو اس بات کی پرواہ ہی نہیں ہے کہ ترقیاتی کام سے کوئی مستفید ہوتا ہے تو ہو نہیں ہوتا تب بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ترقیاتی کام سے عوام کامستفید ہونا خواب بن گیاوفاقی وزیر امین الحق ایم کیوایم پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں وہ کراچی کی نمائندہ جماعت ہونے کی بات کرتی ہے لیکن جب صورتحال یہ ہو کہ ترقیاتی کام ناقص سے بھی ناقص ترین ہوں تو باآسانی اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ معاملات کس نہج پر پہنچ چکے ہیں، اسی سڑک پر صاف پانی کا نالہ برد ہو کر ضائع ہونا بھی تشویشناک صورتحال کی جانب اشارہ ہے ضلع غربی میں صاف پانی کی فراہمی مشکل سے مشکل کام ہوتا جارہا ہے لیکن اس کا رخ اورنگی ٹائون نمبر چار کی شاہراہ سے منسلک نالے سے لگایا جاسکتا ہے جہاں بوند بوند پانی کے ترسے عوام کو پانی کی فراہمی کے بجائے پانی نالے میں ضائع ہورہا ہے اورنگی ٹائون کے مکینوں نے ارباب اختیار سے گزارش کی ہے کہ وہ مذکورہ صورتحال پر ملوث افراد کیخلاف کاروائی عمل میں لائیں ناقص ترقیاتی کام کی رپورٹ وفاق کو کی جائے کہ ان کی جانب سے جو فنڈ اراکین اسمبلی کو فراہم کیا جارہا ہے وہ عوامی فلاح وبہبود کے بجائے جیبوں میں جارہا ہے کیونکہ سڑک کے بجائے گارے پر مشتمل سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں۔

نوٹ: یہ رپورٹ روزنامہ اردو بلیٹن کی انتظامیہ کی اجازت کے بعد شائع کی جارہی ہے، جس کے جملہ حقوق اردوبلیٹن کے پاس محفوظ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: