کراچی کے پوش علاقے میں‌ کھلے عام فحش ڈانس پارٹیوں اور منشیات کی محافل کا انعقاد، سیاسی شخصیات کے 4 بیٹے بھی شریک

کراچی کے پوش علاقے کے گیسٹ ہاؤسز میں فحاش اور منشیات پارٹیوں کا کھلے عام انعقاد، آرگنائزر نے قانون کو پیروں تلے روند دیا

ذمہ دار پولیس سوتی رہی اوباش جوڑے پوری رات نشے میں دھت رقص کرتے رہے، فحاش پارٹی کا مبینہ اورگنائزر نعمان سراج اور پوش علاقے کی مبینہ آئس سپلائیئر کائنات کی نئی ویڈیو نے قانون کی رٹ کو چیلنج کر دیا

کراچی(وضاحت نیوز)گزشتہ روز رات گئے کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 7 کے نجی گیسٹ ہاؤس میں ہونے والی فحاش ڈانس اور منشیات پارٹی کی نئی ویڈیو منظر عام پر آگئی جس میں نعمان سراج اور کائنات کو رقص کرتے دیکھا جاسکتا ہے، اس ویڈیو کے آنے کے بعد پولیس کی کارکردگی کا ایک بار پھر پول کھل گیا۔

ویڈیو میں منشیات کا بے دریغ استعمال کر کے پوری رات رقص کرنے والے  اوباش جوڑوں کی ویڈیو نے پولیس کارکردگی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کردیے۔کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 7 کے نجی گیسٹ ہاؤس میں گزشتہ رات ہونے والی فحاش پارٹی جس میں پوری رات ممنوعہ نشہ آور مشروبات اور آئس جیسی خطرناک منشیات کا نہ صرف بے دریغ استعمال ہوتا رہا بلکہ فحاش پارٹی میں آنے والے جوڑے پوری رات نشے کی حالت میں رقص سمیت غیر اخلاقی فعال میں بھی ملوث رہے۔

نمائندہ ذرائع و وضاحت نیوز کو باوثوق شخص نے بتایا کہ نعمان سراج نامی شخص نے سوشل میڈیا پر تشہیر کے ذریعے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو فحاش پارٹی اور منشیات نوشی کا کھلا لالچ دیتے ہوئے مائل کر کے نجی گیسٹ ہاؤس پر فحاش پارٹی کا انعقاد کیا جس میں سنگل انٹری 5 ہزار جبکہ کپل انٹری کے ریٹ 10 ہزار روپے وصول کیے گئے۔

پارٹی کا آغاز رات 8 بجے سے لے کر صبح 6 بجے تک ہوا، جس کے دوران نشے میں دھت جوڑے منشیات کے استعمال کے بعد رقص کرتے رہے، اس پارٹی کی وجہ سے پولیس اور متعلقہ ادارے گزشتہ رات وقت سے پہلے ہی سونے پر مجبور ہو گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ فحاش پارٹی میں موجود افراد میں 4 افراد اہم سیاسی شخصیات کے بیٹے تھے جن کی وجہ سے مذکورہ فحاش پارٹی کے اورگنائزر نعمان سراج اور آئس سپلائیر کائنات نے بلا خوف و خطر منشیات فروشی کر کے اپنے گھناؤنے دھندے میں مزید اضافے کے ساتھ ساتھ عام عوام سمیت اہم سیاسی شخصيات کے بچوں کو منشیات نوشی پر مائل کیا۔

اس قسم کی تقاریب سے  شہر کا نوجوان طبقہ تباہی کی جانب مائل ہورہا ہے جس پر پولیس حکام سمیت حکومت سندھ کو عملی اقدامات اٹھا کر نوجوان نسل کا مستقبل تاریک کرنے والے ملزمان کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کاروائی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ نوجوان نسل کی تباہکاری کو روک کر ایک صحت مند معاشرے کو قائم رکھا جا سکا جو کہ پولیس کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر سرکاری لوازمات سے مستفید ہونے والے افسران شاہی کی ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی کراچی کے مختلف گیسٹ ہاؤسز اور فارم ہاؤس میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے، حال ہی میں وضاحت نیوز کی نشاندہی پر پولیس نے کارروائی کر کے دو آرگنائزرز کو گرفتار بھی کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: