پشاور کا عبدالقادر پاک و ہند کا دلیپ کمار

پشاور کا عبدالقادر پاک و ہند کا دلیپ کمار

خیبرپختون خواہ کے دارالحکومت قصہ خوانی بازار میں گیارہ دسمبر 1922 کو پھل فروش کے گھر پیدا ہونے والا بچہ برصغیر کی سب سے بڑی انڈسٹری کا ’حادثاتی بادشاہ‘ کہلایا۔

تقسیم ہند کے وقت دلیپ صاحب کے والد اپنے اہل خانہ سمیت بھارت کے شہر ہندوستان منتقل ہوئے اور اُسی کو اپنا مستقل مسکن بنایا، دلیپ کمار اپنے بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے،  اپنے فلمی کیریئر کا آغاز  1944ء میں فلم ’جوار بھاٹا‘ سے کیا مگر فلم انڈسٹری میں اپنی اصل پہچان 1960ء میں تاریخی فلم ’مغلِ اعظم‘ میں شہزادہ سلیم کا کردار ادا کر کے بنائی۔

دلیپ کمار نے اپنے فلمی کیرئیر کے دوران مغل اعظم، ملن، جگنو، شہید، ندیا کے پار، انداز جوگن، بابل، آرزو، ترانہ، ہلچل، دیدار، سنگدل، داغ، آن، شکست، فٹ پاتھ، امر،اڑن کٹھولا، انسانیت، دیوداس، نیا دور، پیغام، کوہ نور، گنگا جمنا، شکتی، سمیت کئی لازوال فلموں میں عمدہ اداکاری کے جوہر دکھائے۔

ان کی خدمات کے پیشِ نظر حکومت ہندوستان کی طرف سے انہیں پدما بھوشن ایوارڈ، دادا صاحب پھالکے سمیت کئی اعزازات دیئے گئے جبکہ 1998ء کو انہیں پاکستان کے سب سے بڑے سویلین اعزاز نشان پاکستان سے بھی نوازا گیا۔

واضح رہے کہ بالی ووڈ فلم نگری پر طویل عرصے تک راج کرنے والے لیجنڈری اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار 98 سال کی عُمر میں آج صبح انتقال کر گئے، وہ گزشتہ دنوں اسپتال میں رہنے کے بعد گھر منتقل ہوئے اور تین روز قبل سانس میں تکلیف کے بعد انہیں دوبارہ ممبئی کے اسپتال منتقل کیا گیا ۔دلیپ کمار کے انتقال کی خبر اُن کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اُن کے ترجمان فیصل فاروقی کی جانب سے جاری کی گئی۔

ایک قیاس ہے کہ دلیپ صاحب کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے، مگر اہل خانہ اس خیال کو مسترد کررہے ہیں، وہ نمونیا جیسے مرض میں ضرور مبتلا تھے۔ ٹریجڈی کنگ نے متعدد بار پشاور آکر اپنی بچپن کی یادیں تازہ کرنے کی خواہش کو آخری خواہش قرار دیا مگر وہ اسی حسرت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: