وزیر اعلیٰ اور وزیربلدیات کے درمیان دوریاں، بلدیاتی افسران پھنس گئے

تجزیاتی رپورٹ: سیدمحبوب احمدچشتی

سندھ حکومت کےکنفیوز فیصلےمالی مفادات سے مزین تقرریوں سےمطلوبہ نتائج نہ حاصل ہونےپرضلع بلدیات میں اکھاڑ پچھاڑ کرکے بہترین کارکردگی کوپس پشت ڈالتے ہوئے عوامی مفادات کوشدیدنقصان پہونچایا جارہا ہےوزیراعلیٰ کوکسی ڈپٹی کمشنرکی شرٹ کاکلر اچھانہیں لگایاکسی مہینےمنافع بخش نتائج حاصل نہیں ہوسکےتوشامت سرپر کھڑی ہےاور پھروہی لوکل بورڈسےآفت ٹوٹ پڑی ہےوزیراعلیٰ اور وزیربلدیات سندھ کےدرمیان مفاہمتی رابطہ پالیسی نہ ہونے سےیہ اعلیٰ افسران پھنس گئےہیں اور اسی وجہ سےکوئی گروپ وزیراعلیٰ سندھ کی اور کوئی گروپ وزیربلدیات کی آشیرآباد کے طفیل پوسٹنگز پرموجودہےقابلیت اور کارکردگی سےزیادہ کماؤ پوت افسران کو ترجیج دینےکی روایت عظیم سےعظیم ترہوتی جارہی ہےبدترین نااہلی کی اس بڑی اورکیا مثال ہوگی کہ بلدیہ شرقی میں ڈپٹی کمشنرکی تعیناتی دوہفتوں سےزائد تاخیرکاشکار رہی اورپھرایک ایساموقعہ بھی آیا جب22جولائی 2021ء کو مشیروزیراعلیٰ سندھ مرتضی وہاب کومون سیزن ختم ہونے جانے کے بعد(خشک دورہ مون سون) ضلع وسطی اورشرقی کرواکرماموں بنایاگیا اور پھر جگہ یہ دیکھ کرحیرانگی کےساتھ کم علمی پر افسوس بھی ہواکہ جب یہ لکھادیکھاکہ وزیراعلیٰ سندھ کادورہ وسطی اورشرقی/جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نہیں مشیروزیراعلیٰ سندھ مرتضی وہاب نےیہ دورہ کیاتھااور پھراعلیٰ ترین کارکردگی کےحامل افسرشعیب احمد ملک کومفاداتی طرزفکرنےنشانےپررکھ کر  عہدےسےجانےپرمجبورکیا بلدیہ شرقی میں مسلسل  چیئرٹیبل گیم سے عوامی خدمات کی انجام دہی میں شدیدمشکلات پیدا ہورہی ہیں بلدیاتی مسائل ویسےبھی زیادہ ہیں سیاسی بنیادوں پرتقرریوں نےاس شہر کوویسےہی برباد کردیاہے سندھ حکومت تمام ڈسرکٹ میونسپل کارپورشنز میں اپنےعمل دخل کو ماہانہ ریکوری تک محدود رکھے کیونکہ یہ بہترین کام وہ باخوبی ادا کررہی ہےڈپٹی کمشنرزاورمیونسپل کمشنرز کوکام کرنےدیں کرپشن اورلوٹ مار میں سندھ حکومت اخلاقیات کومدنظررکھےیہی مشورہ تمام ملازمین و افسران کےلیئےبھی ہےاس سیاسی یتیم لاوارث شہرقائد کےبلدیاتی اداروں کو اصل وارثین کے آنے تک تباہی سے بچانےمیں اپناکردار ادا کرتےرہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں: