سیاسی ایڈمنسٹریٹرمرتضیٰ وہاب بمقابلہ ایم کیوایم پاکستان

سیاسی ایڈمنسٹریٹرمرتضیٰ وہاب بمقابلہ ایم کیوایم پاکستان

کراچی(تجزیاتی رپورٹ: سیدمحبوب احمد چشتی)ایم کیوایم پاکستان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرزکےلیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نےسیاسی بنیاد پر ایڈمنسٹریٹر کراچی تعینات کردیا ہے ،
شہرقائدمیں سیاسی وبلدیاتی ہلچل بلدیہ عظمیٰ کراچی کی تاریخ میں باضابطہ طور پر سیاسی ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی سےایک بار پھرنئی تاریخ رقم ہوگئی اس سے قبل بلدیہ عظمیٰ کراچی میں 1993ء میں کیپٹن (ر) فہیم الزماں دومرتبہ اور مشاہدحسین ایڈمنسٹریٹر تعینات رہ چکے ہیں لیکن ان کی حیثیت سیاسی نوعیت کے بجائے سرکاری رہی لیکن ان کی وابستگی سیاسی ضرورتھی ،بیرسٹرمرتضی وہاب کی والدہ فوزیہ وہاب بھی بلدیہ عظمیٰ کراچی میں اہم ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں، فی الوقت بلدیہ عظمیٰ کراچی میں سیاسی ایڈمنسٹریٹر کی آمد ہوئی ہے جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور وزیراعلیٰ کے مشیر کے طور پر اہم ذمہ داریاں نبھاچکے ہیں نئے وزیراعلیٰ کے مشیران میں اب ان کا نام شامل نہیں ہے جو اس جانب نشاندہی کر رہا ہے کہ ان پر بھرپور اعتماد کے ساتھ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں بھیجا گیا ہے تاکہ وہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو درست ٹریک پر لاکر شہریوں کی ان توقعات پر پورا اتر سکیں جو ان سے وابستہ کی جاچکی ہیں دیکھنا یہ ہے کہ سابق مئیر کراچی وسیم اختر کے بعد وہ کراچی کے مکینوں کی خدمات سر انجام دینے میں کس درجے تک اپنا کردار ادا کرسکیں گےایم کیوایم پاکستان کے کنونئیر ودیگر رہنما نے کھلے عام یہ کہا تھا کہ مرتضی وہاب کو ایڈمنسٹریٹر تعینات نہیں ہونے دیں گے لیکن اب ایسا ہوچکا ہے لہذا مرتضی وہاب کو سیاسی مخالفتوں کو بھی برداشت کرنا ہوگا۔اس تمام صورتحال کاجائزہ اگرلیاجائے تو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی بےشمار ایسی سیاسی غلطیاں تھیں کہ عوامی سطع پرانکووہ سپورٹ نہیں مل سکی جوماضی میں کسی فردواحدکی مرہون منت ملی تھی عوامی خدمت کےبجائےاختیارات کارونااس تمام بلدیاتی نظام میں ایم کیوایم پاکستان کافلاپ سیاسی ڈرامہ تھااب صورتحال یکسرمختلف ہوچکی ہےمتحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے سیاسی ایڈمنسٹریٹرکوقبول کرنے سے انکار کر دیاہےایم کیوایم پاکستان نےمرتضیٰ وہاب کوایڈمنسٹریٹرکراچی بنائےجانےکی بھرپور مخالفت کرتےہوئےکہاہےکہ ایڈمنسٹریٹر کی سیاسی تقرری کا اعلیٰ حکام اور الیکشن کمیشن نوٹس لیں یہ عمل انتخابی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے،بلدیاتی انتخابات سے قبل سیاسی ایڈمنسٹریٹر کا تقرر انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے ایف آئی اے کے مطابق چالیس لاکھ جعلی شناختی کارڈ برآمد ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کاجعلی مینڈیٹ بے نقاب ہوچکا ہے بلدیہ عظمٰی کراچی کے معاملات سیاسی ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے چلانا مطلق العنانیت کی بدترین مثال ہےمیئر کراچی کی نشست حاصل کرنا پیپلزپارٹی کا خواب ہےجوخواب ہی رہے گا کراچی میں ہونےوالے گزشتہ تمام انتخابات میں شہر قائد نے پیپلز پارٹی کومستردکیا اگرمتحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی مرتضیٰ وہاب سےکوئی خفیہ ڈیل نہیں ہوئی ہےتووہ زیادہ دیراس اہم عہدےپرقائم نہیں رہ سکیں گےاور اگر مرتضیٰ وہاب نےیہ وقت گزارلیاتوسمجھ لیا جائےکہ پی پی اورمتحدہ کےچند
(اہم شخصیات)کے ساتھ معاملات طےہیں بلدیات ہمیشہ سےایم کیوایم کے لیئےاہم رہی ہے لیکن جس اندازمیں پیپلزپارٹی پلاننگ کرکےچل رہی ہے منتشر منقسم ایم کیوایم پاکستان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرزکےلیئےیہ لمحہ فکریہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نےسیاسی بنیاد پر ایڈمنسٹریٹر کراچی تعینات کردیا ہےجو بلاشبہ منقسم متحدہ پاکستان کو یہ واضع کرارا جواب ہےکہ وازرتوں کےمزے لیتےرہو وفاقی اورصوبائی حکومت ہم دونوں ملکر تمارے پیروں سےیہ زمین بھی کھینچ لیں گےکیونکہ ہم سب میں اعلانیہ،خفیہ مفاہمتی اتحاد ہےیہ بات بالکل واضح ہے کہ مرتضی وہاب کراچی میں پیپلز پارٹی کی بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کیلئے ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اگر انہوں نے بہترین بلدیاتی خدمات فراہم کیں اور مسائل میں گھرے شہریوں کے مسائل حل ہونا شروع ہوگئےتو پیپلز پارٹی کا آئندہ بلدیاتی انتخابات میں گراف اوپر آنے سے نہیں رک سکتا لیکن اس کے مخالف طرزعمل کراچی کی عوام برداشت نہیں کر پائے گی،مرتضی وہاب کیلئے یہ نیا ٹاسک انتہائی اہمیت کا حامل ہے یہ پچھلے تمام ٹاسک سے مختلف اور سڑکوں پر موجود رہ کرمسائل حل کروانے جیسے بوجھل کاموں سے منسلک ہے یہاں انہیں اپنی بہترین کاوشیں سر انجام دینی ہونگی کیونکہ پیپلز پارٹی کی کراچی میں سیاسی سرگرمیوں کو دوام بخشنے کا بوجھ ان پر آن پڑا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں: