ایک ہونا ہوگا، عامر خان کی مہاجروں کو ایک ہونے کی پیش کش

اسٹیبلشمنٹ پی پی کی سرپرستی بند کرے،عامر خان کی مہاجر دھڑوں کو ایک ہونے کی پیش کش

کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن کے سلسلے میں وارڈ نمبر تین میں کارنر مٹینگ سے خطاب

کراچی(نمائندہ خصوصی) ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونیئر عامر خان نے بھی مہاجر دھڑوں کو ایک ہونے کا مشورہ دیا اور اسٹیبلشمنٹ سے شکوہ کیا ہے کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن کے سلسلے میں وارڈ نمبر تین میں کارنر مٹینگ سے خطاب کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ کراچی کے ساتھ کئی دہائیوں سے نفرت اور زیادتی جاری ہےایک سازش کے تحت پیپلز پارٹی نے اس شہر کو تعصب کی بھینٹ چڑھایااختیارات کے باوجود پیپلز پارٹی نے اس شہر کو کھنڈر بنا دیا، نو سو ارب روپے صوبہ وفاق کو دیتا ہے اسکے باوجود اس کراچی کو لاوارث چھوڑا ہوا ہےانہوں نے کہا کہ کراچی کے حکمرانوں کو کراچی سے کیا نفرت ہے پتہ نہیں، یہ جتنے لوگ جیت کرآتے ہیں یہ وڈیڑے جاگیردار ہیں، انکا کوئی پاکستان میں نہیں ، انکی فیملیاں بیرون ملک میں ہوتی ہیں اور پیسے گاڑیوں کی کمی نہیں، شہروں کوچھوڑیں اندرون سندھ چلے جائیں انہوں نے نے تو اسکو بھی نہیں چھوڑا، اندرون سندھ میں یہ وڈیرے اپنے ووٹرز ہاری کو جانور سمجھتے ہیں۔

عامر خان نے مردم شماری کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس شہر کو صیح گنا نہیں جاتا جبکہ چیف جسٹس خود پیپلز پارٹی کے کوچئیرمین آصف زرداری کہے چکے ہیں کہ کراچی کی آبادی تین کڑور سے زیادہ ہےلیکن جب مردم شماری ہوئی تو آبادی کو آدھا دکھایا گیاایم کیو ایم کے ڈپٹی کنونیئر نے کہا کہ یہ شہر اب رہنے کے قابل نہیں رہا، بلدیہ ٹاؤن میں تین تین مہینے ایک بوند پانی نہیں آتا اور حکومت کے کانوں میں جوں نہیں رینگتی ایک زمانے میں اس شہر میں کے ٹی سی کی بسیں چلتی تھیں مگر گزشتہ گیارہ سالوں میں پیپلز پارٹی نے ایک بس اس شہر کو نہیں دی وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کراچی کے لیے صرف بیانات سامنے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ آج نارتھ ناظم آباد ، نارتھ کراچی کا حال بارش کے بعد کیا ہوتا ہے سب کے سامنے ہے، جتنے فنڈز بلدیاتی حکومت کو درکار ہوتے ہیں اس پیپلز پارٹی نے اسکا آدھا بھی نہیں دیا، وسیم اختر چار سال چیختے رہے لیکن انھوں نے کچھ نہیں دیامرتضی وہاب اب نئے رکھوالےآئے ہیں لیکن وہ بھی کراچی دشمنی پر تلے ہوئے ہیں اختیارات ، وسائل وزیر بلدیات فنڈز سب انکے پاس ہےلیکن ایک ماہ گزرگیا انھوں نے کیا کیا، عام انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم کو بیٹھا کر ہماری سیٹیں ہم سے چھین لی گئی، ہماری جیتی ہوئی سیٹوں کو شکست میں بدل دیا گیا اگر ہم تحریک انصاف کا ساتھ نہ دیتے تو یہ حکومت قائم نہ رہتی، تحریک انصاف نے بڑے دعوی کیے کہ وہ اس شہر کی تقدیر بدل دیں گے مگر افسوس کے وہ تبدیلی اور وعدے صرف باتوں تک ہی محدود رہےعمران خان کراچی آئے اور ایک سو باسٹھ ارب کا پیکج دیا مگر وہ پیسہ نہیں ملاجس پر ایم کیو ایم نے اس پر احتجاج اور ناراضگی کا اظہارکیاعمران خان کو سوچنا ہوگا کہ اگر اپ نے وعدے پورے نہ کیے تو یہ کراچی اپ کو معاف نہیں کرےگاانہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں لندن، پی آئی بی اور پی ایس پی کی صورت میں تقسیم کیا گیا، اسٹبلشمنٹ پیپلزپارٹی کی سرپرستی بند کرے جب حق نہیں ملتا تو چھینا پڑتا ہےاب ریلیوں احتجاج سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اب ہمیں ایک ہوکر سڑکوں پر نکلنا ہوگا، اسٹبلشمنٹ نےخوب کیا کہ ایم کیو ایم کو ٹکریوں میں تقسیم کردیا، لیکن اب ہمیں ایک ہونا ہوگا ، پی ایس پی ، لندن ، پی آئی بی ختم کرکےایک ہونا ہوگا، ایم کیو ایم پاکستان موجود ہےاس نے پارٹی کو بچایا بھی اور چلایا بھی، پہلے والی طاقت کو واپس لینا ہوگالڑنے اور حق چھیننے کے لیے ایک ہو کر بغیر کسی پراہ کے باہر نکلنا ہوگا، ماضی کے دور میں واپس جانا ہوگا جب ہم اعلان کرتے تھے تو شہر بند ہوجاتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: