نئے صوبوں کی ضرورت، قیام پاکستان کے وقت کُل آبادی کتنی تھی، تحریر فہد احمد خان

نئے صوبوں کا قیام تحریر: فہد احمد خان

کراچی کے عوام کی جانب سے گزشتہ کئی سالوں سے ملک میں انتظامی بنیاد پر نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا جارہا ہے کیوں کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام سے ہی ملک کا استحکام، سلامتی، ترقی، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی
مشروط ہے۔

آج ملک میں جنوبی پنجاب صوبے، سرائیکی صوبے اور ہزارہ صوبے کو دبی دبی صدائیں اب پرزور مطالبات میں ڈھل کر پاکستان کے منتخب ایوانوں میں گونج رہی ہیں۔

مخالفین کی جانب سے ان مطالبات پر بھی تنقید کے جارہی ہے جو کہ صحت مند جمہوری معاشرے کا حسن ہے، تنقید ضرور کی جائے۔ جب تک ملک کے کونے کونے سے نکلنے والی آوازیں اور پاکستان کو مستقبل میں درپیش خطرات محسوس نہیں کیے جائیں گے نہ عوامی مطالبات سنے جائیں گے، اس طرح اقتدار مافیا اپنی ناک پر تعصب کی عینک نہیں اترے گی تو بات نہیں بنے گی۔

ایسے وقت میں جہاں پوری دنیا بشمول ترقی یافتہ ممالک اور ویٹو پاور رکھنے والی بین الاقوامی طاقتیں بھی غیر یقینی معاشی و بگڑتی ہوئی امن عامہ کی صورت حال، تعلیم و صحت کی ناقص کارکردگی کے ساتھ ساتھ دیگر تمام شعبوں میں انتہائی غیر یقینی کیفیت اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ دنیا کے ہر خطے میں تیسری عالمی جنگ کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ پاکستان جیسے غیر ترقی یافتہ اور قرضوں میں جکڑے ملک کی سلامتی کے بارے میں ارباب اختیار کو تمام لسانی، نسلی، ثقافتی، علاقائی، اور مذہبی تفرقات سے باہر نکل کر پاکستان کی دیرپا بقاء، سلامتی اور خوشحالی کے لیے حقیقت پر مبنی پالیسیاں بنانی ہوں گی اور ایسی پالیسیاں بناتے وقت اگر کڑوے گھونٹ بھی پینے پڑیں تو فہم و دانش کا تقاضا یہی ہے کہ ملکی استحکام کی خاطر یہ کڑوا گھونٹ پی لیا جائے۔

ہمیں معروضی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں انتظامی بنیاد نئے صوبوں کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟

قیام پاکستان کے وقت پاکستان کی کل آبادی تین کروڑ پچیس لاکھ تھی، اور اس وقت پاکستان میں چار صوبے تھے، 1971۶ میں سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ان کی تعداد چار رہ گئی ہے جب کہ مردم شُماری نہ ہونے کے باعث حالیہ آبادی کا صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے، کو کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق بیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پڑوسی ملک افغانستان کی آبادی تقریباً تین کروڑ ہے جب کہ صوبوں کی تعداد 34 ہے۔ ایران کی آبادی آٹھ کروڑ ہے جب کہ صوبوں کی تعداد 31 ہے۔

ان حقائق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اتنی بڑی آبادی پر مشتمل نظام کو چلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ طاقت کی تقسیم کا ہونا ضروی ہے۔ ان ہی حقائق کی روشنی میں کوئی ذی شعور پاکستانی پاکستان میں انتظامی بنیاد پر نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ صوبوں کے قیام سے نہ صرف ملک میں انتظامی معاملات کو بہتر انداز میں چلانے میں مدد ملے گی بلکہ ملک بھر کے عوام میں احساس شراکت اور احساس ذمے داری بھی پیدا ہوگا جس کہ نتیجہ ہمیں ملکی استحکام کی صورت میں ملے گا۔

پاکستان کے ہر علاقے میں انتظام حکومت کو بہتر انداز سے چلانے، صوبوں کے وسائل کی منصفانہ تقسیم، شہریوں میں پائے جانے والی احساس محرومی کے خاتمے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے اس علمی بحث کا آغاز کرنا چاہیے کہ پاکستان میں موجودہ صوبوں میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے عمل سے پاکستان میں ایک قوم کا تصور بری طرح متاثر ہوچکا ہے۔ ہم ایک پاکستانی قوم کے بجائے قومیتوں، برادریوں اور مسالک میں بٹے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے حکمرانوں اور تمام ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ دیگر مسائل کی طرح اس مسئلے پر بھی توجہ دیں، اس اہم ترین موضوع کو مرہون خاطر لاتے ہوئے اس پر منظم علمی بحث کا آغاز کیا جائے، جہاں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندگان کو اپنا موقف کھل کر بیان کرنے کا موقع فراہم کیا جائے تا کہ اتفاق رائے سے اس نقطہ تک پہنچا جاسکے کہ پاکستان میں انتظامی بنیاد پر نئے صوبوں کے قیام کو کس طرح ممکن بنایا جاسکتا ہے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل
zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ
ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں: