انسانی زندگی میں تحریکوں کی اہمیت، تحریر فہد احمد خان

انسانی زندگی میں تحریکوں کی اہمیت
تحریر: فہد احمد خان

انسانی زندگی میں تحریکوں کی اہمیت پر اگر بات کریں تو پہلے انسانی فطرت کا جائزہ لے لیتے ہیں۔

انسانی فطرت کی بات کی جائے تو صدیوں سے انسان کسی نہ کسی جدوجہد میں مصروف رہا ہے کبھی اپنی بقاء کے لیے کبھی اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے، کبھی علم کے حصول کے لیے تو کبھی تخلیق کے لیے کوشاں نظر آیا۔ کبھی اپنی ذات کی تعمیر و ترقی کے لیے جو انفرادی سطح پر ہر ذی شعور انسان کے اندر موجود ہے یعنی انفرادی طور پر کردار کی تشکیل ذہنی تربیت سماجی شعور کو بیدار کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے۔ اس طرح کسی شخص کا ذہن متحرک ہو یعنی وہ فہم و فراست کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہو اور ماضی سے عبرت حال سے سبق اور مستقبل کا نشان متعین کرتا ہے تو انفرادی سطح پر بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے والا انسان اپنی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو اپنے مضبوط کردار اور ارادوں کی بنا پر دور کرتا ہے اور اپنے احساسات اور خواہشات کا رخ اپنے مقصد پر مرکوز کردیتا ہے جو اسکا مستقبل اور منزل ہوتی ہے یعنی یہ بات طے شدہ ہے کہ انسانی زندگی میں جدوجہد میں ملنے والی تمام کامیابیوں اور ناکامیوں کا کردار و مدار اُس کی جدوجہد، مضبوط ارادوں اور اپنے مقصد سے محبت پر منحصر ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی انسان انفرادیت کو ختم کر کے اجتماعیت کے لیے جدوجہد کرے تو تحریکیں جنم لیتی ہیں اور اگر تحریکیں عملی زندگی کے مقصد سے وابستہ ہوں اور مقصد سچائی کا آئینہ دار ہو تو مقصد حاصل کرنے کے لیے جس راہ کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ انفرادی زندگی دوسری زندگیوں کے لیے مشعل راہ بن جایا کرتی ہیں۔ تحریک، انسانی زندگی، روز مرہ کے مشاہدے اور اس کے لیے جدوجہد کرنا بدلتے ہوئے حالات کی پیچیدگیاں اور معاشرے کی بےچینیاں، نظام کا انسانی توقعات کو پورا نہ کرنا اور مذہبی شدت پسندی سیاسی قیادت کا فقدان ہے تمام محرکات ہیں کو کسی شخص کی بغاوتی سوچ کو جنم دیتے ہیں اور اس کے بعد جدوجہد پر مجبور کرتے ہیں اور انفرادی سطح پر دوسروں سے منفرد ہونے کا احساس برابری کی بنیاد پر حق کی تلاش اور اپنی بقاء کیلئے اور بہتر مستقبل کے لیے تلاش ہی دراصل تحریکوں کو کو جنم دیتی ہے کیا ہے۔
تحریک کے معنی دراصل حرکت کے ہیں یعنی کسی مقصد کے لیے سوچا جائے جائے اور اس کے لئے حرکت کی جائے اگر انفرادی سطح پر زندگی میں تحریکی عمل نہ ہو تو زندگی رک جاتی ہے بچوں کی فکر ساکت ہوجاتی ہے مستقبل حال میں مقید ہو جاتا ہے ہے گویا زندگی بے مقصد اور موت کا نمونہ پیش کرنے لگتی ہے۔ دراصل انفرادی جدوجہد اجتماعی سوچ کو جنم دینے کا باعث بنتی ہے اور انفرادی مقصد کے لئے جدوجہد پر مجبور کر کے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کا باعث بنتی ہے۔ انفرادی سوچ اور فکر اجتماعیت کا ماحول مرکز بن جائے آئے تو پھر ذہن اپنی بقا کی کے لیے راہ کا متلاشی نظر آئے گا اور فکر بہتر کل پر مرکوز ہو جائے گی پر زبان اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے گی اور اور ہر شخص کی سوچ ہم آہنگ ہوگی تحریک ہمیشہ اجتماعی مقاصد کے لئے ہی بنائی جاتی ہیں۔ معاشرے میں جنم لینے والی تمام تحریکیں مختلف مقاصدوں کے تحت مختلف حالات میں جنم لیتی ہیں۔ اگر کوئی انسان کسی معاشرے میں انسانی احساسات اور جذبات کے ساتھ گہری سوچ میں سو جائے اور خواب غفلت میں رہنے ہی کو عافیت سمجھتے تو معاشرے کی آزادی رائے اور انفرادی اور اجتماعی سوچ سے محروم ہوجاتا ہے اور باشعور طبقہ اگر اس کی بہتری کے لئے جدوجہد نہ کرے تو اس کا شمار بزدلی کے زمرے میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہر ذی شعور شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے گردو نواح کے حالات کا جائزہ لے اور انفرادی ترقی کی راہ چھوڑ کر اجتماعی مقصد کو مضبوط کریں۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل
zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ
ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: