کوٹہ سسٹم ۔ آخر کب تک؟ تحریر کائنات فاروق

کوٹہ سسٹم ۔ آخر کب تک؟
تحریر: کائنات فاروق

کوٹہ سسٹم کی بات کرنے سے پہلے میں اسے نافذ کرنے والے اور اُن کی سیاسی زندگی کے بارے میں ایک مختصر جائزہ لینا چاہوں گی۔ انیس سو ستر میں پیلزپارٹی نے متحدہ پاکستان کے ایک نسبتاً چھوٹے حصے میں انتخابی مہم چلا کر الیکشن میں دوسری بڑی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا تھا مگر جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اپوزیشن میں بیٹھنا قبول نہ تھا لہٰذا اُنھوں نے ملک کی سب سے بڑی جماعت عوامی لیگ کو اقتدار منتقل نہ ہونے دینے کی ٹھان لی تھی اور یہی بات ملک کے مقتدر طبقات کے مفاد میں بھی تھی۔

نتیجتاً ملک دو لخت ہوا اور اسی الیکشن کی بنیاد پر بھٹو صاحب نے مسلم لیگ ق سے مِل کر حکومت قائم کرلی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بقیہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں (اگرچہ اُس وقت بلوچستان کو صوبہ کے درجہ حاصل نہ تھا) دوبارہ انتخاب ہوتے اور نے صورت حال کے مطابق عوام کو اعتماد میں لے کر رہے شُماری کرائیں جاتی مگر پاکستان میں 1947 ۶ کے بعد سے جو اندھیر نگری قائم تھی اس کی نظیر سامنے رکھتے ہوئے ایسا ضروری نہ سمجھا گیا کیوں کہ مسلم لیگ نے بھی تو آزادی حاصل ہونے کے بعد بغیر الیکشن کرائے ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ تک ملک پر حکومت کی تھی۔ انصاف کی رو سے دیکھا جائے تو بھٹو صاحب کی حکومت سراسر غیر اصولی، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی تھی مگر اسی غیر قانونی حکومت نے 1973 ۶ میں آئین بنا کر اپنی غیر اصولی حکومت کو قانونی حیثیت دیدی۔ حالانکہ اس ادھوری اسمبلی کو دستور ساز اسمبلی مان بھی لیا جائے تو دستور کی بنیاد پر قانون ساز اسمبلی سینیٹ اور صوبائی اسمبلی کے نئے انتخابات ہونے چاہیے تھے مگر ایسا کرنے سے ممکن تھا کے اقتدار کسی اور جماعت کے ہاتھ لگ جاتی کیوں کہ عوام سقوط مشرقی پاکستان کے مرکزی کرداروں سے بخوبی واقف ہوچکی تھی۔ بہرکیف بھٹو صاحب ہیجانی دور کے سیاست دان تھے اور قوم کو ہیجان میں مبتلا رکھ کر حکومت چلانے میں کامیاب رہے۔
بھٹو صاحب چونکہ سوشلزم کا نعرہ کے کر اٹھے تھے لہٰذا گزشتہ ایک صدی سے زائد انگریز کا قائم کردہ جاگیرداری نظام گرانے کے لیے پنجاب اور سندھ کے غریب کسانوں اور ہاریوں نے انھیں ووٹ دے کر کامیاب بنایا تھا۔ مگر بھٹو صاحب کا اپنا تعلق بھی جاگیردار طبقے سے تھا اور اُن کے والد جوناگڑھ اسٹیٹ کے وزیر تھے لہٰذا اسی ملکی اشرافیہ کے ایک رکن تھے جس کے خلاف وہ نعرہ زن تھے۔ اُنھوں نے دیہی سندھیوں کو خوش کرنے کے لیے کوٹہ سسٹم کا انوکھا نظام رائج کردیا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ اُنھوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں اور سرکاری ملازمین کی بھرتی کے لیے کوٹہ سسٹم نافذ کر کے کام نمبروں سے پاس ہونے والے دیہی طلباء و طالبات کو اعلیٰ اور امتیازی نمبروں سے کامیاب ہونے والے شہری طلباء و طالبات پر فوقیت دی اور تقریباً تمام سرکار ملازمتوں پر دیہی علاقوں کے افراد کو بھرتی کرنے کی پالیسی نافذ کرکے میرٹ کی قتل کردیا جو آج تک جاری و ساری ہے۔
میرٹ کے اس مسلسل قتل عام کے باعث جو ہر قابل نے برون ملک کی راہ اختیار کرلی اور برین ڈرین کے اس عمل کے باعث صوبے میں باشعور اور باصلاحیت افراد کی تعداد کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے۔ کو ذہین اور قابل مالی مشکلات یا گھریلو وجوہات کی بناء پر برون ملک نہ جاسکے اُنھوں نے نجی شعبوں کو طرف رخ کرلیا اور کراچی و حیدرآباد کو دنیا کے دیگر بڑے شہروں کے مقابل لا کھڑا کیا۔ تعمیراتی اور صنعتی شعبے کے علاوہ تجارت میں بے پناہ ترقی ہوئی تو اندرون سندھ کے شہریوں کو بھی کراچی میں روزگار ملا۔
شہری علاقوں کی ترقی فیوڈل سسٹم کی موت ہوتی ہے کیوں کہ شہروں میں رہ کر کام کرنے والے دیہاتی جب اپنے علاقوں کو جاتے ہیں تو وہ جاگیردار کی چودرہات تسلیم نہیں کرتے ساتھ ہی ترقی پسندی کی روح دیگر مقامی لوگوں میں بھی پھونک دیتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ حکمران شہری علاقوں کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہیں۔
جن معاشروں میں حقداروں کو اُن کا حق نہ ملے وہ معاشرے تباہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جن معاشروں میں اشرافیہ انصاف کے اصولوں سے بےبہرہ ہو وہ معاشرے آخر کب تک قائم رہ سکتے ہیں؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ: “حکومت کفر کے ساتھ قائم رہ سکتی ہے ظلم کے ساتھ نہیں”۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے یہاں طلباء و طالبات اور تعلیم یافتہ شہریوں سے ناانصافی کا پودا لگایا جو آج تناور درخت بن چکا ہے۔ نااہل افراد انتظامیہ اور پولیس سمیت ہر ادارے میں چھائے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ عدالتوں میں بھی کوٹہ سسٹم کے تحت وہ افراد مسند نشین ہوگئے ہیں جن کی اکثریت ضابطہ فوجداری کی بیشتر دفعات سے بھی آگاہ نہیں۔ ملک میں بد انتظامی اور بیڈ گورننس کا خاتمے صرف تعلیم کے فروغ، کوٹہ سسٹم کے خاتمے اور انصاف کو زور فراہمی کے نتیجے میں ہو سکتا ہے مگر اس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا؟


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل
zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ
ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: