مہاجروں نے ملکوں کو سنبھالا ! تحریر فہد احمد خان

مہاجروں نے ملکوں کو سنبھالا !

تحریر: فہد احمد خان

کسی بھی ملک کی عظمت ترقی و وقار سے مہاجروں کا خاصا گہرا تعلق رہا ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے کہ نیپولین بونا پارٹ جزیرہ کارسیگا میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا جہاں سے وہ ہجرت کر کے فرانس گیا اور فرانس کا بادشاہ بنا اور آج فرانس کی عظمت اس کے نام سے منسوب ہے۔ جرمنی کا ایڈولف ہٹلر آسٹرین تھا جس کو پہلی بار جنگ عظیم میں شجاعت

کے اعتراف پر جرمنی کی شہریت عطا کی گئی اور جہاں سے وہ جرمنی کا چانسلر یعنی وزیراعظم منتخب ہوا۔ ایل کے ایڈوانی اندر کمار گجرال و من موہن سنگھ کے خاندان تقسیم ہند کے وقت موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ اور پنجاب سے ہجرت کرکے ہندوستان گئے جو کہ فرزند زمین نہیں تھے مگر دنیا کے ایک جمہوری ملک ہندوستان کے وزیراعظم اور وزیرخارجہ بنے۔ جس طرح مقدونیہ میں پیدا ہونے والا سکندر اعظم یونانی کہلاتا ہے اور دنیا بھر میں سکندر یونانی سے پہچانا جاتا ہے۔ روس کا وزیراعظم مارشل اسٹالن ملک جارجیا کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک یونانی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور ان تمام آدمی مثالوں سے ہٹ کر ایک عظیم مثال دیکھیں کہ خود سرکار دو عالم سرور کائنات رسول مقبول حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور مدینہ ہی سے حضور اور مہاجرین نے انصار کے ساتھ مذہب اسلام کو پھیلایا اور عظیم عالیشان اسلامی سلطنت کی بنیاد قائم کی جو رہتی دنیا تک ایک مثال ہے۔

ہم کس طرح اپنے ذہنوں اور تاریخ سے مہاجر اور حضرت کو معدوم کر سکتے ہیں بات صرف سمجھنے کی ہے اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ مہاجر کیا ہے؟ اور ہجرت کیا ہوتی ہے؟ بڑے بلند عقل و شعور کی ضرورت ہے جو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں معدوم ہے اسی وجہ سے ہم نے ابھی تک مہاجر اور مقامی کا تصور قائم رکھا ہوا ہے اور اسی تفریح کی وجہ سے ہم وطن عزیز پاکستان میں اور 1947 کو ہجرت کرکے آنے والوں کو وہ بنیادی حق دینے پر تیار نہیں ہیں جوکہ عوام کا حق ہے جبکہ ان کی وہ نسلیں اسی وطن عزیز میں پیدا ہوئی اور یہیں مدفون ہورہی ہیں۔ ملک کے بہتر مفاد میں ہمیں اپنی یہ تفریق ختم کر دینی چاہئے اور اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیئے کہ یہ نسل بالکل اسی طرح سے سچے پاکستانی ہیں جیسے کوئی دوسرا پاکستانی ہو سکتا ہے بلا تفریق رنگ و نسل زبان و مذہب ملک کے اعلیٰ عہدوں پر بھی تعینات ہونے کا حق اتنا ہی ہے جتنا کسی دوسرے موروثی پاکستانی کا ہو سکتا ہے۔

حقوق بلا تفریق یکساں ہونے چاہیے پاکستان کا یقینی دفاع ہماری ایٹمی صلاحیت کر رہی ہے اور میزائل کا دفاعی نظام اور اس ایٹمی صلاحیت کو قائم کرنے والا کون ہے؟ سب جانتے ہیں کہ بھوپال میں پیدا ہونے والا ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب! جب ایک ماہر پاکستان کا دفاع کر سکتا ہے تو پھر مہاجر پاکستانی کے لئے دل و جان سے قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ بھارت کے وزیراعظم اندر کمار گجرال اور من موہن سنگھ نے اخبارات کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے وزیراعظم بن جائیں گے یہاں ہم مہاجر کی حیثیت سے آئے ہیں لیکن یہ بھارت کے حصے میں آیا ہے کہ مہاجرین کی پہلی نسل ہی وزیر اعظم بنیں اور ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئیں۔ ایل کے ایڈوانی اندر کمار گجرال اور من موہن سنگھ آزادی کے بعد ہجرت کرکے موجودہ پاکستان سے نئے وطن ہندوستان گئے تھے اور وہاں کی ملکی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور بڑھتے بڑھتے ہندوستان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے ہندوستان میں کسی نے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا کہ وہ فرزند زمین نہیں ہے کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ ہندوستان کی وزارت عظمی اور اعلیٰ ملکی عہدوں کی باگ دوڑ کس طرح ان لوگوں کے ہاتھ میں دی جائے جو اس ملک کے پیدائشی شہری نہیں ہیں۔ اور کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ وہ پاکستانی ہیں جیسا کہ ہمارے ملک میں آج تک ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کو ہندوستانی کہا جاتا ہے۔ اندر کمار گجرال اور من موہن سنگھ اس بات پر بھی حیران اور خوش ہیں کہ مہاجرین کی پہلی نسل وہاں کی وزیراعظم بنی۔ آج کے دور میں جو معاشرے اور افراد باشعور ہوتے ہیں ان میں اگر کوئی ہجرت کر کے نقل مکانی کر کے آ جاتا ہے تو اس کو معاشرہ اور اس کے افراد ہر طرح قبول کرلیتے ہیں اور ہر وہ حق حاصل ہوتا ہے جو اس ملک کیا معاشرے کے موروثی رہنے والے فرد کو حاصل ہوتا ہے۔ ہمارے دورے حاضر میں لاتعداد مثالیں بکھری پڑی ہیں جیسے امریکہ کے نامور صدر کینیڈی ہجرت کرکے آئرلینڈ سے امریکہ گئے تھے اور تیسری نسل میں جناب جان ایف کینیڈی امریکہ کے صدر بن گئے۔

مگر افسوس کے ساتھ ملک پاکستان میں آج بھی ان لوگوں کو جنہوں نے مملکت پاکستان کی جدوجہد میں بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دینا اپنے ہرے بھرے مسکن کو پاکستان کی آزادی پر قربان کیا اپنے علم و ہنر اور مالی وسائل سے نومولود مملکت پاکستان کو بے سروسامانی کی کیفیت سے نکالنے میں اور اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا، پاکستان جس طرح گزشتہ کئی سالوں کراچی سے گلگت تک نا ساز حالات و واقعات سے نبرد آزما رہا ہے پاکستان دشمن قوتیں ان حالات و واقعات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سازشوں میں مصروف عمل رہی ہیں۔ اُن صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے کہ آئندہ ملک ایسی سازشوں سے محفوظ رہے، حقیقت پسندی کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کے طاقتور حلقے اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے نام نہاد سیاسی پنڈتوں کو اپنے متعصبانہ رویوں کو تبدیل کر کے ملک میں بسنے والے تمام شہریوں کو وہی حقوق اور مراعات دینے چاہئیں جو اپنے لیے تصور کرتے ہیں ہر لسانی اکائی کا احترام کیا جائے باہمی افہام و تفہیم اتفاق رائے سے ایسے اقدامات کئے جائیں اور ایسا عملی طریقہ کار تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے ملک کے ہر حصے اور علاقے میں بسنے والے عوام الناس کو بلاتفریق رنگ و نسل حقوق ملکیت وفاقی و صوبائی سطح پر انتظامیہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے مواقع میسر آئیں کیوں کہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کا دارومدار اسی پر ہے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: