آفاق احمد کی بانی ایم کیو ایم کو مشروط حمایت کی یقین دہانی

آفاق احمد کی بانی ایم کیو ایم کو مشروط حمایت کی یقین دہانی

کراچی: مہاجر قومی موومنٹ  (ایم کیو ایم حقیقی) نے شہر میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا، جس کے تحت پہلا پروگرام سرجانی ٹاؤن میں ہوا، جس میں زون کے نئے ذمہ داران کا اعلان کیا گیا۔عارف اعظم، ڈاکٹر نگہت فامہ، عامر صدیقی سرجانی زون کے اراکین منتخب ہوئے۔

سرجانی ٹاؤن میں ہونے والے پروگرام میں حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد نے خصوصی شرکت کی اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، انہوں نے مہاجر سیاست کرنے والے دھڑوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

آفاق احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں نے قوم کی خواہش پر اتحاد کی پیش کش کی مگر اُس کا کوئی مثبت جواب نہیں آیا، محسن کش لوگ اپنے مفادات کا سوچتے ہیں انہیں قوم سے کوئی غرض نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال ، فاروق ستار اور ایم کیو ایم نے اپنے سر بچانے کے لیے الطاف حسین سے لاتعلقی کی، جبکہ میں نے مہاجر کو متحدہ کرنے کے معاملے پر اُس وقت اختلاف کیا جبکہ الطاف پورے زوروں پر تھا۔

آفاق احمد نے بانی ایم کیو ایم کو پیش کش کی کہ اگر وہ پاکستان مخالف نعرے اور بیانات پر معذرت کریں اور مہاجر قوم سے معافی مانگیں تو وہ مکمل ساتھ دیں گے۔

مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے سربراہ آفاق احمد نے میں نے اپنی قوم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے سارے دھڑوں کو ایک ہونے کی دعوت دی مگر اس کو کمزوری سمجھا گیا۔

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ مہاجروں کو ایک نقطے پر متحد ہونے کی درخواست کی تھی ، میری درخواست پر کوئی رزلٹ نہیں آیا، سب کو اپنے مفادات پیارے ہیں، میرا بانی ایم کیو ایم سے ذاتی جھگڑا نہیں بلکہ مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ بنانے پر ہوا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مہاجروں کے مسائل حل ہوئے نہیں اور ہم پورے پاکستان کی بات کررہے ہیں، اس شہر میں جہاں مہاجروں سے لوگ کانپتے تھے اج ہزاروں میل سے دور انے والا رکشہ ڈرائیور جھڑک دیتا ہے، مہاجر شناخت سے علحیدگی کی وجہ سے اج مہاجر مایوسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ، میں نے اپنی قوم کی خواہش کا احترام کیا اور سب کو ایک ہونے کی دعوت دی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اداروں اور طاقتوں نے اس قوم کو تقسیم کرنے کے لیے الگ الگ ڈھڑے بنائے، جنھوں نے یہ کام کیا وہ طاقتیں کھبی ان ڈھڑوں کو ایک نہیں ہونے دیں گے ، اپنی قوم کے مفاد میں ایک ہونے کی لیڈر شہ میں اب طاقت نہیں، اب ان لیڈروں کو چھوڑ کر اب قوم کو اکٹھا ہونا پڑے گا‘۔

آفاق احمد نے بغیر نام لیے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’محسن کش لوگ کبھی عوام کا مفاد نہیں سوچ سکتے، عوام ان کی کارکردگی کو دیکھے اور پھر فیصلہ کرے‘۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر اکاؤنٹ @ZarayeNews

فیس بک @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: